روش کمار
آج کل ملک میں ووٹ چوری ، ووٹ چوروں ، قوم دشمنوں اور غداروں کے کافی چرچے ہیں، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام انہیں کیوں برداشت کر رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف انڈیا موضوع بحث ہے۔ بہرحال چوی پکڑے جانے پر الیکشن کمیشن آف انڈیا چوری کا سامان واپس کر رہا ہے۔ بہرحال چوری پکڑے جانے پر الیکشن کمیشن آف انڈیا چوری کا سامان واپس کر رہا ہے اس سے چوری کے جرم کی سنگینی کم نہیں ہوجاتی جس کمیشن کو بناء ڈرے ، بناء دباؤ کے سارے فیصلے لینے کا حق دیا گیا ہے ، وہ فارم 6 کے غیر قانونی بدلاؤ کو چپکے چپکے کیوں بدل رہا ہے کاکروچ جنتا پارٹی کے ابھیجیت دیپکے نے پوچھا بھی ہے کہ یہ سوال پہلے کیوں ضروری بنایا گیا ہے ۔ گیانو؟ کاکروچ گیانیش کمار کو گیانو کہتے ہیں۔ 6 اکتوبر کو اپوزیشن کے تمام ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کریں گے اور گیانیش کمار کا استعفیٰ مانگیں گے۔ انڈیا اتحاد کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ماہ اکتوبر میں ملک بھر میں 5 بڑی ریالیاں نکالی جائیں گی ۔ اپوزیشن کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایس آئی آر کے عمل میں شفافیت نہیں ہے ، اس میں غیر قانونی طریقے سے اصول و ضوابط جوڑے گئے۔ غیر قانونی فیصلے لئے گئے ۔ اس لئے ایس آئی آر رد کردیا جائے ۔ انڈیا اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں جو بھی الیکشن ہو ایس آئی آر کے پہلے کے ووٹر لسٹ کی بنیاد پر کرائیں جائیں ۔ دہلی میں انڈیا اتحاد کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عام آدمی پارٹی نے حصہ نہیں لیا کیونکہ وہ انڈیا اتحاد کا حصہ نہیں ہے ۔ دہلی کے کانسٹیٹیوشن کلب میں انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں حصہ لینے کیلئے ممتا بنرجی ، ابھیشک بنرجی بھی کولکتہ سے آئے۔ سماج وادی پارٹی ، راشٹر وادی کانگریس پارٹی ، شیوسینا ادھو ٹھاکرے ، سی پی ایم ، سی پی آئی ، اے آئی ایف بی ، سی پی آئی ایم ایل ، آئی یو ایم ایل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ، جھارکھنڈ مکتی مورچہ ، ایم ڈی ایم کے وی سی کے ، جے کے پی ڈی پی ، کے سی ایم آر ایس پی اور کے سی جے نے حصہ لیا۔ اپوزیشن کی 19 جماعتوں کے اس اجلاس میں کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ 13 کروڑ 30 لاکھ لوگوں کے نام حذف کردیئے گئے ۔ جمہوریت میں حصہ لینے سے متعلق ان لوگوں کا حق چھین لیا گیا ہے۔ رائے دہندوں کو طئے کرنا ہے کہ اقتدار میں کون آئے گا؟ لیکن یہاں اقتدار طئے کررہا ہے کہ رائے دہندے کون ہوں گے ۔ کسی بھی رائے دہندے کا نام نہیں چھوٹنا چاہئے ، کسی کا نام حذف ہوا ہے تو نام بتاؤ اور حذف کئے جانے کی وجہ بھی بتاؤ ۔ اگر الیکشن کمیشن ہی آزاد نہیں ہوگا تو ہندوستان میں کسی الیکشن پر بھروسہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔ کھرگے نے ای وی ایم کا بھی مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ تمام جماعتیں ای وی ایم کے خلاف ایک آواز میں بول رہا ہیں ۔ بی جے پی ان کا استعمال اپنے حساب سے کرنے لگی ہے۔ ہم ان مشینوں کا اب اور استعمال نہیں ہونے دیں گے ۔ بیالٹ پیپر پر واپس جانا ہی ہوگا تاکہ انتخابی عمل میں لوگوں کا بھروسہ پھر سے بحال ہوسکے۔ ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ آج جو بڑا اسکام ہوا ہے اس کا خمیازہ عوام نے بھگتا ہے جو ووٹ چوری کا الزام بہار میں راہول گاندھی اور تیجسوی یادو نے عائد کیا اور ووٹ چوری کر کے بی جے پی نے 2026 میں جیتا ، مدھیہ پردیش میں کامیاب ہوئی ، ہریانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی ، بہار میں جیتا ، بنگال میں لوٹا ، میں لوگوں کے ساتھ الیکشن کمیشن سے نمائندگی کیلئے آئی تھی ۔ سپریم کورٹ سے بھی رجوع ہوئی تھی ۔ تمام دروازے کھٹکھٹائے لیکن ابھی تو خلاصہ ہوگیا کہ گیانیش کمار چور ہے ، ڈاکو ہے ، اس نے ووٹ چوری کیا ، ای وی ایم مشین جلادیا ، ای وی ایم مشین ہائی جیک کیا ، ووٹوں کی گنتی میں رگنگ کیا ۔ ایسے میں گیانیش کمار کو فوری ا پنے عہدہ سے مستعفی ہوجانا چاہئے ۔ لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے کہا کہ اجلاس میں اپوزیشن کے ہر لیڈر یا نمائندہ کو احساس تھا کہ مسئلہ سنگین ہے اور ہم عوام تک اسے پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ ہندوستان کی جمہوریت ہر کسی کے قد سے بڑی ہے، جو بھی اس کیلئے ذمہ دار ہے اسے بخشا نہیں جائے گا۔ راہول گاندھی نے کہا کہ سارے ملک میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ہی ایک ایسے ہندوستانی ہیں جنہیں تاحیات قانونی چھوٹ دی گئی ہے کیونکہ وزیراعظم مودی نے ان کا استعمال کر کے الیکشن کی چوری کی ہے ۔ انہیں استعفیٰ دینا پڑے گا ۔ اپوزیشن کے خیال میں جو دوسرا بڑا مسئلہ ہے، اس بارے میں راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ جو ووٹ چوری ہوئی ہے تمام جماعتوں کا خیال ہے کہ ہندوستان کا جو جمہوری نظام ہے اس پر بی جے پی نریندر مودی ، امیت شاہ اور گیانیش کمار جی نے حملہ کیا ہے اور ہم اسے آسان میں لینے والے نہیں ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے، چوروں کو سزا ملے اور جن لوگوں نے ہندوستانی جمہوریت کو تباہ کیا ہے ، انہیں سزا دی جائے چاہے وہ کتنے ہی سینئر کیوں نہ ہو اور چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ 2023 میں مودی حکومت ایک قانون لے کر آئی جس کے تحت یہ انتظام کیا گیا کہ سبکدوشی کے بعد بھی الیکشن کمشنران کے خلاف ان کے کام سے جڑے معاملوں میں مقدمات نہیں ہوسکتے اور نہ ہی انہیں جیل بھیجا جاسکتا ہے۔ آج تک ہندوستان کے جتنے بھی الیکشن کمشنران ہوئے انہیں تو اس کی ضرورت نہیں پڑی ۔ موجودہ الیکشن کمشنران کو یہ قانون کیوں چاہئے ۔ الیکشن کمشنران نے آخر کیوں اس قانون کی مخالفت نہیں کی۔ اب مسئلہ نمبر 3 پر آتے ہیں۔ یہ جڑا ہے فارم 6 سے۔ عوام کا ڈر الیکشن کمیشن کے دروازے پر دستک دینے لگا ہے۔ فارم 6 کو لے کر سوال اٹھا تو الیکشن کمیشن نے بڑی خاموشی سے آن لائین فارم 6 بدل دیا ہے ۔ فارم 6 میں غیر قانونی طورپر سوال جوڑنے کی بات دو دو الیکشن کمشنران نے کی تھی ۔ یہ بدلاؤ صرف حکومت کرسکتی ہے ۔ وہ بھی وزارت قانون کے ذریعہ یہ الیکشن کمیشن کے اختیار میں ہی نہیں آتا۔ اس کے بعد بھی اسی فارم 6 کو ایس آئی آر کی پوری کارروائیوں کے دوران سارے ملک میں گھمایا گیا تب الیکشن کمیشن نے سینہ تان کر کہا کہ عدالت نے ہمارے بدلاؤ کو صحیح مانا ہے ۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ دکھاؤ عدالت کا حکم اسے لے کر درخواست دائر ہوگئی تو الیکشن کمیشن نے اب فارم 6 میں اس سوال کو بڑی خاموشی سے ہٹادیا جسے الیکشن کمشنران نے ہی غیر قانونی کہا تھا ، اس پر ہنگامہ مچ جانے پر الیکشن کمیشن نے جلدی میں دھول جھونکنے کیلئے ایک راستہ نکالا کہ دو فارم 6 ہوں گے ۔ 18 سال عمر کے ووٹر کیلئے الگ سے فارم 6 ہوگا، جس میں یہ سوال نہیں ہوگا کہ 2003 کے ایس آئی آر میں ماں باپ ، دادا ، دادی ، یا نانا نانی کا نام تھا یا نہیں ۔ یوگیندر یادو نے سوال اٹھادیا کہ فارم 6 دو کیسے ہوسکتے ہیں ؟ فارم 6 تو اس کے لئے ہوتا ہے جو پہلی بار ووٹر بنتا ہے جو پہلے سے ووٹر ہے ، اس کا نام حذف ہوگیا تب وہ فارم 6 کیسے پُر کرے گا ۔ یہ سراسر جھوٹ ہے ۔ یوگیندر یادو نے آسان زبان میں بتادیا کہ الیکشن کمیشن آپ سے کیا کروا رہا ہے ۔ کمیشن نے یوگیندر سے نہیں کہا کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں، بس انہوں نے جو کہا خاموشی سے مان لیا ۔ الیکشن کمیشن سمجھ رہا تھا کہ اس کا جھوٹ کبھی پکڑا نہیں جائے گا۔پکڑا بھی گیا تو خاموشی سے تبدیل کر کے نکل جائے گا ۔ دی ہندو اور دوسرے اخبارات کی رپورٹ ہے کہ الیکشن کمیشن نے آن لائین بھرے جانے والے فارم 6 سے وہ سوال ہٹادیا ہے جس میں پوچھا جارہا تھا کہ 2003 کے ایس آئی آر میں والدین دادا ، دادی ، نانا ، نانی کا نام تھا یا نہیں ، پہلے بھی دادا دادی والا سوال لازمی نہیں تھا لیکن بناء اسے بھرے ہوئے ECI-NET کا پورٹل درخواست قبول نہیں کرتا تھا۔ اب آپ اس کے بغیر بھی ECINET کے پورٹل پر فارم بھرسکتے ہیں۔ اس کو لے کر ایس ایس سندھو اور ویویک جوشی نے سوال کیا تھا۔