ٹاملناڈو وزیر بالاجی کو ہٹانے کی درخواست مسترد

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ٹاملناڈو کے وزیر سینتھل بالاجی کے خلاف مبینہ ملازمت گھپلہ کیس میں گرفتاری کے باوجود کابینہ میں برقرار رہنے کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کر دیا۔ جسٹس ابھے ایس اوکا اور اجل بھویان کی بنچ نے درخواست پر غور سے انکار کرکے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق ہیں اور اس میں عدالت سے کسی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے ۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ گورنر چیف منسٹر کی سفارش کے بغیر کسی وزیر کو برطرف نہیں کر سکتے ۔ 5 ستمبر 2023 کو مدراس ہائی کورٹ نے سماجی کارکن ایم ایل روی کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جسے انہوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ بالاجی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 14 جون 2023 کو گرفتار کیا تھا۔ وہ اس وقت عدالتی حراست میں ہے ۔ ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھاکہ نہ تو آئین اور نہ ہی 1951 کا عوامی نمائندگی ایکٹ کسی شخص کو حراست میں رہتے ہوئے یا الزامات عائد کیے جانے کے بعد مقدمے کی سماعت کے دوران ریاستی اسمبلی کا رکن بننے سے نااہل قرار دیتا ہے ۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ ہائی کورٹ کیلئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ دوران حراست وزیر کو ہٹانے کا کوئی قانون نہیں ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو قانون بنانے تک اس کی تشریح اور اس خلا کو پر کرنے کی نظیر ہے ۔