واشنگٹن، 23 جون (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر متنبہ کیا ہے اگر معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی تو ایسے اقدامات کروں گا جس کا تصور بھی محال ہوگا۔ اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، دیکھتے ہیں معاملات کس ڈگر پر چلتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ایران نیوکلیئر معاملے پر شفافیت یقینی بنانے پر آمادہ ہو چکا ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق معائنوں کی اجازت دینے پر بھی رضامند ہے ۔ انھوں نے کہا آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور لیڈر شپ سب ختم ہوچکی ہے ، اگر ایران معاہدے پر قائم نہیں رہا تو وہی کروں گا جو مجھے کرنا ہے۔ ٹرمپ نے دہرایا کہ اُن کی بحریہ ختم ہو چکی ہے ، اُن کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے ، اُن کے تمام رہنما مارے جا چکے ہیں، اُن کا پورا ملک تباہ حالی کا شکار ہے ، اُن کی معیشت مفلوج ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا اور آپ کو نیویارک ٹائمز کو پتہ ہے جو جعلی خبریں پھیلاتا ہے ، اس نے کہا کہ ارے ، حالات تو تقریباً ویسے ہی ہیں جیسے 4 ماہ پہلے تھے !نہیں چار ماہ پہلے ان کے پاس بحریہ تھی، 159 بحری جہاز تھے ، جو اب نہیں ہیں، ان کی پوری بحریہ ختم ہو چکی ہے ، ان کے 250 طیارے تباہ ہو چکے ہیں، ان کے تمام طیارے اور ریڈار کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ ٹرمپ نے مزید کہا اگر ایران اپنے معاہدے پر عمل نہیں کرتا یا وہ مناسب رویہ نہیں اپناتے تو میں وہ سب کچھ کروں گا جو مجھے کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے حوالے سے کہا کہ مستعفی برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر مسائل پر قابو نہیں پا سکے ۔
، اسٹارمر کو توانائی، امیگریشن بحران اور جرائم کی بڑھتی وارداتوں کا سامنا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد انھوں نے اسٹارمر کی مدد کی پیشکش قبول نہیں کی، ایران جنگ کے دوران اٹلی کا رویہ بھی انتہائی برا رہا، یورپ کے تحفظ کیلئے ہم نے کھربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں۔