فرضی سروے …گرتی ساکھ بچانے گودی میڈیا کا سہارا
مغربی بنگال میںووٹ چوری … حکومت چوری بے نقاب
رشیدالدین
کیا نریندر مودی حکومت واقعی خطرہ میں ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جو دہلی میں اقتدار کی راہداریوں میں گونج رہا ہے ۔ گزشتہ 12 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی کو اقتدار کی بنیادیں ہلتی دکھائی دے رہی ہیں اور پیروں تلے زمین کھسک رہی ہے ۔ Gen-Z جو 12 برسوں میں Gen-Alpha بن گئے، انہوں نے جنتر منتر سے مودی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے تبدیلی لہر ملک بھر میں پیدا کردی ہے ۔ لوک سبھا انتخابات 2029 میں ہوں گے لیکن ابھی سے مودی حکومت نے گودی میڈیا کو متحرک کردیا ہے تاکہ فرضی اور خود ساختہ سروے کے نام پر نریندر مودی کی مقبولیت کا ہوا کھڑا کیا جاسکے۔ دراصل مرکز کی ایک خفیہ داخلی رپورٹ نے حکومت اور بی جے پی حلقوں میں طوفان بپا کردیا ہے۔ صاحب اقتدار افراد کی نیند اُڑ گئی اور آنکھوں میں زوال کی نشانیاں دکھائی دینے لگیں۔ جن طلبہ اور نوجوانوں کو کاکروچ اور گٹر کے کیڑے مکوڑے کہا گیا، یہ وہی ہیں جنہیں ملک کا مستقبل کہتے ہوئے بی جے پی ووٹ بینک کے طورپر استعمال کرتی رہی۔ جن کاکروچوں کی بدولت اقتدار پر فائز رہے، آج وہی کاکروچ اقتدار کیلئے خطرہ بن چکے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی اور دوسری جانب راہول گاندھی نے مودی حکومت کے اچھے دن ختم کرتے ہوئے برے دنوں کا آغاز کردیا اور تبدیلی کی اس لہر کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دے رہا ہے ۔ گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے گودی میڈیا کو متحرک کرتے ہوئے فرضی اور جھوٹے سروے رپورٹس کے ذریعہ مودی حکومت کو بیساکھیوں کے سہارے کھڑا کرنے کی کوشش ہے۔ آخر اچانک گودی میڈیا اور سروے کی ضرورت کیوں پڑگئی۔ حکومت جب محفوظ ہے اور نریندر مودی عوام میں مقبول ہیں تو پھر الیکشن سے تین سال قبل سروے کی کیا ضرورت ہے ؟ کاکروچ جنتا پارٹی اور راہول گاندھی کی نوجوانوں میں بڑھتی مقبولیت کے زیر اثر مرکزی ایجنسیوں نے حکومت کو رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ اگر موجودہ حالات میں الیکشن ہوں تو بی جے پی کو موجودہ 240 توکجا 125 نشستیں بھی نہیں ملیں گی۔ این ڈی اے کو 200 سے زیادہ نشستوں کا حصول دشوار ہے۔ خفیہ رپورٹ کے برعکس بی جے پی کے جہاندیدہ اور سینئر قائدین کا ماننا ہے کہ اگر نوجوانوں میں مخالف حکومت لہر اسی طرح جاری رہی تو 100 نشستوں کا حصول بھی مشکل ہوجائے گا۔ رپورٹ میں اقتدار کیلئے خطرہ کی گھنٹی ملتے ہی گودی میڈیا کو متحرک کردیا گیا۔ انڈیا ٹوڈے اور سی ووٹر کے نام سے سروے جاری کیا گیا جس میں این ڈی اے کو 326 نشستوں کا دعویٰ کیا گیا جبکہ بی جے پی 261 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ انڈیا الائنس کو 185 اور کانگریس کیلئے 106 نشستوں کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ سروے میں کہا گیا کہ کاکروچ پارٹی رائے دہندوں پر کوئی اثر نہیں ہے ۔ نریندر مودی 50 فیصد سے زائد عوام میں مقبول ہیں اور آئندہ وزیراعظم کے طور پر 49 فیصد عوام کی اولین ترجیح ہیں۔ صرف 27 فیصد عوام راہول گاندھی کو وزیراعظم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی نے Damage Control کیلئے گودی میڈیا کو آگے کردیا ہے اور وقفہ وقفہ سے گودی میڈیا کے سروے منظر عام پر آتے رہیں گے تاکہ 2029 میں اقتدار سے محرومی کے خطرہ کو ٹال دیا جائے۔ سیاسی پنڈتوں نے این ڈی اے کو 326 اور انڈیا الائنس کو 185 نشستوں کے دعویٰ کو سال 2026 کا لطیفہ قرار دیا ہے۔ ایک طرف کاکروچ دوبارہ سڑکوں پر نکلنے کی تیاری میں ہیں تو دوسری طرف راہول گاندھی کے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام نے ملک میں سیاسی تبدیلی کیلئے دستک کا کام کیا ہے۔ بی جے پی کے پاس گودی میڈیا کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ گودی میڈیا پر عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے لیکن مودی حکومت کیلئے وہ ڈوبتے ہوئے تنکے کا سہارا کی طرح ہیں۔ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران کاکروچوں کو ملک دشمن اور چین ، امریکہ اور پاکستان کے ایجنٹ قرار دیا گیا لیکن کاکروچوں نے اپنی طاقت کے ذریعہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ حاصل کرلیا۔ اب ان کا اگلا نشانہ بی جے پی کے چانکیہ امیت شاہ اور ملک کے چوکیدار نریندر مودی ہیں۔ کاکروچوں کی بڑھتی سرگرمیوں اور راہول گاندھی کی بڑھتی مقبولیت نے مودی ۔امیت شاہ کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کردیا ہے ۔ گزشتہ 12 برسوں میں اس جوڑی نے ہر بڑے چیلنج کا مقابلہ کیا اور کٹر مخالفین کو بھی کمزور کردیا لیکن آج ان کی ہر چال الٹی پڑتی دکھائی دے رہی ہے ۔ کاکروچوں پر مقدمات سے دستبرداری کا وعدہ پورا نہیں ہوا جبکہ راہول گاندھی کے پروگراموں میں مسلسل رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔ اب تو Gen-Alpha نے بھی اسکولوں کی ابتر حالت پر مورچہ سنبھال لیا ہے اور کئی بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں حکومتوں کو جھکنا پڑا۔ گودی میڈیا کے فرضی سروے اب رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے والے نہیں ہیں۔ سروے کی لڑائی شروع ہوچکی ہے اور وقفہ وقفہ سے گودی میڈیا کے اسکرین پر مودی کی جئے جئے کار کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ ہر سروے میں این ڈی اے کو 300 سے زائد نشستوں کا دعویٰ کیا جائے گا۔ حکومت کے اشاروں پر ناچنے والے گودی میڈیا کے اینکرس چیخ چیخ کر جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہے کہ راہول گاندھی پر شخصی حملے کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا سرما نے راہول گاندھی کو پاگل کہا۔ سوال یہ ہے کہ راہول گاندھی اگر پاگل ہیں تو پھر ان کے آگے حکومت کیوں جھک رہی ہے۔ جنتر منتر پر پولیس کے پیلٹ گن سے زخمی نوجوان کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے میں راہول گاندھی کامیاب رہے۔ انہیں دن بھر پولیس اسٹیشن کے روبرو دھرنا بیٹھنا پڑا۔ مودی حکومت جس کے جھکنے کا تصور بھی نہیں تھا ، وہ کاکروچ اور راہول گاندھی کے آگے جھکنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ خوف کم نہیں بلکہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
مغربی بنگال میں SIR اسکام آخرکار بے نقاب ہوگیا۔ مودی حکومت نے الیکشن کمیشن کی مدد سے ووٹ چوری کا کام انجام دیا اور اس کے ذریعہ حکومت چوری کی گئی اور ممتا بنرجی کو دھوکہ سے اقتدار سے بیدخل کردیا گیا۔ نریندر مودی اور امیت شاہ انتخابی مہم کے دوران جس یقین کے ساتھ حکومت کی تشکیل کا دعویٰ کر رہے تھے ، اس کے پس پردہ SIR مہم کی سازش تھی۔ مغربی بنگال میں لاکھوں کی تعداد میں نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیئے گئے ۔ جن میں زیادہ تر مسلم رائے دہندے ہیں۔ سپریم کورٹ نے متاثرہ خاندانوں کی سماعت کیلئے خصوصی ٹریبونلس کے قیام کی ہدایت دی اور ابتداء میں 82782 افراد کی سماعت کی گئی۔ ٹریبونل نے 91 فیصد ناموں کو دوبارہ فہرست رائے دہندگان میں شامل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے حکومت کے اشارہ پر لاکھوں ناموںکو کسی وجہ کے بغیر ہی خارج کردیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹریبونلس میں سماعت کے بعد لاکھوں نام فہرست رائے دہندگان میں دوبارہ شامل کئے جائیں گے۔ بی جے پی نے بہار ، اترپردیش اور دیگر ریاستوں میں بھی ایس آئی آر کے ذریعہ ووٹ چوری کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ بی جے پی کا اگلا نشانہ تلنگانہ اور کرناٹک ہے۔ دونوں ریاستوں میں SIR کے پہلے مرحلہ میں لاکھوں کی تعداد میں ناموں کو مشتبہ فہرست میں شامل کرتے ہوئے انہیں حقیقی فہرست سے حذف کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ایس آئی آر کی دھاندلیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سابق سفارتکار نودیپ سوری جو کئی ممالک میں ہندوستان کے سفیر رہے، ان کا نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیا گیا۔ پنجاب کی ایس آئی آر مہم میں سابق سفارت کار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے شہریت کے ثبوت کے طور پر دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ عدلیہ ، الیکشن کمیشن ، سی بی آئی ، انفورسنمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے استعمال کے ذریعہ اقتدار پر برقراری کی مساعی زیادہ دن کامیاب نہیں ہوسکتی۔ Gen-Z کا بڑھتا طوفان 2029 عام انتخابات تک فیصلہ کن مرحلہ میں پہنچ جائے گا۔ عمران پرتاپ گڑھی نے کیا خوب کہا ہے ؎
ٹوٹا ہوا لشکر کا بھرم دیکھ رہے ہیں
اور ظل الٰہی کے کرم دیکھ رہے ہیں