مخالف حکومت ووٹ کو بی جے پی اور کانگریس میں تقسیم کرنے کی حکمت عملی ، اضلاع میں کانگریس بنیادی سطح پر سرگرم
حیدرآباد۔20جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی ریاست میں کانگریس سے درپیش انتخابی مقابلہ کو سہ رخی مقابلہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے اور اسی مقصد کے تحت ریاستی حکومت کی جانب سے مسلسل بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات تلنگانہ راشٹر سمیتی کے لئے چیالنج بنتے جا رہے ہیں کیونکہ مخالف ٹی آر ایس ووٹ کانگریس کے ووٹ میں تبدیل ہونے لگا ہے اور اگر ریاست میں دو رخی مقابلہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ راشٹرسمیتی کو بڑا جھٹکہ لگ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق سربراہ تلنگانہ راشٹر سمیتی و چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے سیاسی ماہرین سے مشاورت کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ریاست میں بی جے پی کی اہمیت میں اضافہ کررہے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ چیف منسٹر کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اگر مخالف ٹی آر ایس ووٹ متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں استعمال ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاستی حکومت کو خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن اگر مخالف تلنگانہ راشٹر سمیتی ووٹوں کی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان تقسیم کو یقینی بنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ راشٹر سمیتی ہی بڑی سیاسی جماعت برقرار رہنے کی توقع ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جو تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے وہ اس مقصد کے حصول کے لئے مرکزی حکومت اور مرکزی قائدین کا استعمال کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی کو نشانہ بنا رہی ہے جبکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے بی جے پی کو استعمال کرتے ہوئے کانگریس کو حاصل ہونے والے مخالف حکومت ووٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے ریاست میں کانگریس کے کیڈر اور تمام 119 حلقہ جات اسمبلی میں موجود کارکنوں اور قائدین کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ ریاست میں سہ رخی انتخابی مقابلہ کا تاثر دیا جائے تاکہ مخالف حکومت ووٹوں کو منقسم کیا جاسکے۔ بتایاجاتا ہے کہ کے چندر شیکھر راؤ کو موصول ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کا تلنگانہ میں اتنا مستحکم نیٹ ورک نہیں ہے جتنا کانگریس کا نیٹ ورک مستحکم ہے ۔ اسی لئے تلنگانہ راشٹر سمیتی نے بی جے پی کو اہمیت دیتے ہوئے اسمبلی انتخابات کے درمیان بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان مقابلہ کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے جبکہ کانگریس بنیادی سطح پر تمام اضلاع میں سرگرم ہوچکی ہے ۔چیف منسٹر کی جانب سے ریاست میں سہ رخی مقابلہ کے آثار پیدا کئے جانے کے سلسلہ میں سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ گذشتہ دنوں منظر عام پر آنے والے تین سروے میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ بی جے پی ووٹ میں کچھ حد تک اضافہ ہوا ہے لیکن بی جے پی کو اقتدار کی پیش قیاسی نہیں کی جار ہی ہے اگر 2018 اسمبلی انتخابات کے طرز پر نتائج منظر عام پر آتے ہیں تو ایسی صورت میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے امکانات میں کافی اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو نہ صرف اضلاع اور دیہی علاقوں میں بلکہ شہری علاقوں میں بھی عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اس ناراضگی کو دور کرنے کے لئے تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے عملی اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس صورتحال میں ریاستی حکومت مخالف حکومت ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ خود بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین نے اس بات کو قبول کرنا شروع کردیا ہے کہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے سبب گراف میں بہتری پیدا ہوئی ہے اور اگر ریاستی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات الگ الگ ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں بی جے پی کوئی خاص مظاہرہ نہیں کرپائے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے داخلی سروے میں پارٹی کی حالت میں کوئی نمایاں بہتری ریکارڈ نہ کئے جانے کے بعد پارٹی نے تلنگانہ راشٹر سمیتی اور حکومت کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے جبکہ اس سے قبل حکومت سے زیادہ بی جے پی کے سی آر اور ان کے افراد خاندان کو نشانہ بنایا کرتی تھی ۔ تلنگانہ میں ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ اقتدار میں برقرار رہنے کی کوشش کے تحت تلنگانہ راشٹر سمیتی بھارتیہ جنتا پارٹی کو جس انداز میں نشانہ بنا رہی ہے اگر انتخابی نتائج کے بعد تلنگانہ راشٹر سمیتی کو حکومت کی تشکیل کے لئے کسی سیاسی جماعت کی مدد حاصل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ راشٹرسمیتی کس سیاسی جماعت کے ساتھ جائے گی یہ بھی ایک انتہائی اہم سوال ماہرین کی جانب سے کیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ٹی آر ایس پارٹی اپنے کارکنوں اور قائدین کے ذریعہ بی جے پی کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی کی اہمیت میں اضافہ کی کوشش کرسکتی ہے لیکن کانگریس کی جانب سے دونوں سیاسی جماعتو ںپر تنقید کے ساتھ ساتھ پارٹی کو بنیادی سطح پر مستحکم کرنے کے علاوہ جو کارکن پارٹی میں سرگرم نہیں ہیں انہیں سرگرم کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔