ٹی آر ایس کے دور حکومت میں حیدرآباد سے فسادات اور کرفیو کا خاتمہ

,

   

عصری ٹکنالوجی سے لیس کمانڈ کنٹرول اینڈ ڈاٹا سنٹر کا افتتاح : کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں حیدرآباد سے فسادات اور کرفیو کا خاتمہ ہوگیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں ریاست کا لا اینڈ آرڈر پوری طرح کنٹرول میں ہے اور اس وقت سارے ملک کی نظریں حیدرآباد پر ٹیکی ہوئی ہیں ۔ گچی باولی میں وزیر داخلہ محمد محمود علی کے ساتھ عصری کمانڈ کنٹرول اینڈ ڈاٹا سنٹر کا افتتاح کرنے کے بعد ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی ، مئیر حیدرآباد بی رام موہن ، ڈی جی پی مہیندر ریڈی کے علاوہ حیدرآباد ، سائبر آباد ، رچہ کنڈہ پولیس کمشنرس کے علاوہ دوسرے اعلیٰ پولیس عہدیدار موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں میں ہر سال حیدرآباد میں ایک ہفتہ کرفیو رہا کرتا تھا ۔ کے سی آر کی جانب سے چیف منسٹر کا عہدہ قبول کرنے کے بعد کرفیو اور فسادات کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے ۔ پرامن شہر کے طور پر حیدرآباد ترقی کررہا ہے ۔ اس میں پولیس کا اہم رول رہا ہے ۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے موقع پر کئی شکوک و شبہات کے ساتھ ڈر و خوف بھی تھا ۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ آندھرا ۔ تلنگانہ ، آندھرا ۔ رائلسیما کے جھگڑوں کے ساتھ فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑنے کے دعوے کئے گئے تھے ۔ لیکن گذشتہ 6 سال کے دوران حیدرآباد یا تلنگانہ میں ایسا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا ۔ معاشی ترقی کی رفتار عروج پر ہے ۔ کسی بھی شہر ، ریاست یا ملک کی ترقی اور معاشی فروغ کے لیے امن و امان ضروری ہے ۔ تلنگانہ میں لا اینڈ آرڈر کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے ہزاروں کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہورہی ہے ۔ تلنگانہ میں جرائم کی سطح بڑی حد تک گھٹ گئی ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات کا خاتمہ ہوگیا ۔ علاقائی ذات پات کی جانبداری ختم ہوگئی ہے ۔ گذشتہ 6 سال میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آئی ہیں ۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد 284 کروڑ روپئے کے مصارف سے پولیس کے لیے نئی گاڑیاں خریدی گئی ۔ متحدہ آندھرا پردیش میں علاقہ تلنگانہ میں صرف دو ہی پولیس کمشنریٹ تھے ۔ اب اس کی تعداد 7 تک پہونچ گئی ہے ۔ نئے 100 پولیس اسٹیشنس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے محکمہ پولیس کو اولین ترجیح دی ہے ۔ سارے ملک میں جتنے سی سی کیمرے ہیں ۔ ان میں 65 فیصد سی سی کیمرے شہر حیدرآباد میں ہیں ۔ حیدرآباد میں 5 لاکھ سے زائد سی سی کیمرے ہیں چوری کرنے کے لیے اب چور ڈرنے لگے ہیں ۔ اگر اتفاق سے چوری ہوتی بھی ہے تو صرف چار پانچ گھنٹوں میں پولیس کیس کی تہہ تک پہونچ پا رہی ہے ۔ سی سی کیمروں کی وجہ سے یہ سب ممکن ہو پارہا ہے ۔ شہر میں سی سی کیمروں کی تنصیب میں عوام کا تعاون قابل ستائش ہے ۔ انہوں نے محکمہ پولیس کو مشورہ دیا کہ وہ ایسا نظام تیار کریں جس سے ایمبولنس کو ہاسپٹل پہونچنے کیلئے علحدہ راستہ فراہم ہو ۔ خواتین کے تحفظ کیلئے شی ٹیمس کے ساتھ ہاک آئی ایپ متعارف کرایا گیا ہے ۔ خواتین کے تحفظ کیلئے تمام تر اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ سائبر کرائم پر قابو پانے کیلئے خصوصی حکمت عملی تیار کرنے کا مشورہ دیا ۔۔