پالی ٹیکنک کالجس کے انضمام کے خلاف کل چلو حیدرآباد احتجاج

   

ٹیچرس کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تائید ، انضمام کے فیصلہ کو واپس لینے طلبہ کا مطالبہ
حیدرآباد۔20۔اگسٹ (سیاست نیوز) گورنمنٹ پالی ٹیکنک کالجس کو شکتی ڈپارٹمنٹ کے تحت انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (ITI) میں ضم کرنے کی تجویز کے خلاف تلنگانہ کے تمام پالی ٹیکنک طلبہ نے احتجاج میں شدت کا فیصلہ کیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے کئی پالی ٹیکنکس کے روبرو احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور 22 اگست کو چلو حیدرآباد پروگرام کا اعلان کیا گیا ۔ پالی ٹیکنک کے طلبہ انضمام کے فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حیدرآباد ، وقار آباد ، پٹن چیرو ، ورنگل اور کریم نگر اضلاع میں پالی ٹیکنک کالجس میں احتجاج منظم کیا گیا۔ طلبہ کو اندیشہ ہے کہ موجودہ نظام میں تبدیلی کی صورت میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کمزور ہوجائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ انضمام کے نتیجہ میں تین سالہ ڈپلوما پروگرام کی اہمیت ختم ہوجائے گی اور طلبہ کو بی ٹیک کورسس میں داخلہ میں دشواری پیدا ہوگی۔ وزارت لیبر نے جی او نمبر 96 مورخہ 3 جولائی کے ذریعہ شکتی ڈپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا۔ سرکاری پالی ٹیکنک کالجس کو ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کے تحت ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پالی ٹیکنک کالجس کے ٹیچرس جن میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف شامل ہیں، انہوں نے 22 اگست کے چلو حیدرآباد پروگرام کی تائید کا اعلان کیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت 16 تنظیمیں شامل ہیں۔ بائیں بازو پارٹیوں کی جانب سے احتجاج کی تائید کا اعلان کیا گیا۔ 1/k