مالز و مارکٹس 9 بجے بند کردئے جائیں ‘ شادیوں میں ایک ڈش کی اجازت
سرکاری گاڑیوں کے پٹرول میں 50 فیصد کٹوتی ۔ نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندی ۔ حکومت کے نئے کفایتی اقدامات
اسلام آباد 18 ستمبر ( ایجنسیز ) پاکستان بھر میں کفایت شعاری مہم شروع کرتے ہوئے عوام کیلئے مختلف تحدیدات اور پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے بحران سے نمٹنے اور قیمتوں پر قابو پانے کیلئے رات 9بجے مارکٹس اور شاپنگ مالس کو بند کردینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ شادیوں میں محض ایک ڈش رکھنے کے احکام بھی جاری کردئے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی کے مسائل کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پاکستانی کابینی ڈویژن کی جانب سے 17 ستمبر سے یہ تحدیدات اور پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ان کے تحت کہا گیا ہے کہ شادی ہال اور دوسری تقاریب گاہ کو رات 10بجے بند کردیا جانا چاہئے ۔ ریسٹورنٹس ‘ کیفے اور فوڈ اسٹالس کو رات 11 بجے بند کردینے کی ہدایت دی گئی ہے تاہم پارسل اور ہوم ڈیلیوری کو اس سے استثنی رہے گا ۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر کیلئے بھی کچھ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سرکاری گاڑیوں کیلئے آئندہ تین ماہ تک صرف 50 فیصد فیول سربراہ کیا جائے گا ۔ وفاقی محکمہ جات کو نئی گاڑیاں خریدنے کی اجازت نہیں رہے گی ۔ حکومت نے آئی ٹی اشیاء کے سواء دیگر کئی اشیا ء کی خریداری پر امتناع عائد کردیا ہے اور ایسے اخراجات پر پانچ فیصد کٹوتی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جو ملازمین سے متعلق نہ ہوں۔ عہدیداروں کے بیرونی ممالک کے سفر پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ شادیوں کی تقاریب کو بھی محدود کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ شادیوں کی تقاریب میں محض ایک ڈش سے مہمانوں کی تواضع کی جانی چاہئے ۔ کہا جارہا ہے کہ پاکستان میں پٹرول اور فیول کی کمی اور اس کے مہنگے ہونے کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے یہ اقدامات کئے گئے ہیں ۔
پاکستان میں اگلے تین ماہ کیلئے سرکاری پٹرول اخراجات میں 50 فیصد کمی کا اعلان
وزراء کے سرکاری دوروں پر بھی پابندی، تین ماہ کی آزمائشی کمی دیگر ممالک کیلئے ایک سبق
اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (ایجنسیز) حکومت پاکستان نے جمعرات کے روز سرکاری گاڑیوں کیلئے ایندھن کے اخراجات کیلئے مختص کردہ رقم میں 50 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔ اعلان کے مطابق ایندھن کیلئے مختص رقم میں یہ کمی تین ماہ کیلئے کی جا رہی ہے۔حکام کیلئے مشکل فیصلہ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال اور کشیدگی کے پیش نظر سرکاری دوروں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاکہ پٹرول کے سرکاری اخراجات کم کیے جا سکیں۔ یاد رہے پاکستان میں سرکاری کھاتے میں پٹرول اور بجلی کی حکام کو مفت فراہمی پر ایک خطیر رقم اٹھتی ہے۔ بجلی کی اعلیٰ سرکاری حکام کو مفت فراہم کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج اور شور بھی اٹھتا رہتا ہے۔خیال رہے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال اور امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کی وجہ سے توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان کے عوام اس بوجھ سے نسبتاً زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔حکومت پاکستان نے رواں سال کے آغاز میں کفایت شعاری مہم کا آغاز کیا تھا۔ جمعرات کو سامنے آنے والا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو یقیناً دیگر ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک سبق ہے۔ اس سے قبل حکومت پاکستان نے موٹرسائیکل، چنگ چی رکشہ اورر 800 سی سی تک کی گاڑی رکھنے والی عوام کو 100 روپیہ فی لیٹر پٹرول رعایت دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔یہ دونوں فیصلے حکومت نے پٹرول پر لیوی ٹیکس کے خاتمے کے حق میں چلائی جانے والی مہم کے دوران کیے ہیں۔ اس مہم کا نکتہ عروج 22 ستمبر کو اسلام آباد میں ایک لانگ مارچ کی شکل میں پہنچنے والے احتجاجی کارکنوں کی موجودگی ہو گی۔ جو حافظ نعیم الرحمان کے زیر قیادت 20 ستمبر کو کراچی سے چلیں گے۔پٹرول سبسڈی کے ذریعہ موٹر سائیکل رکھنے والے افراد ایک ماہ میں 20 لیٹر اور 800 سی سی تک کی گاڑی والے افراد ایک ماہ میں 30 لیٹر پٹرول سستا لے کر 2000 سے 3000 روپے کی ماہانہ بچت کرسکیں گے۔ اگرچہ پروسیجر مشکل ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ سبسڈی کے اس اعلان کو محض ایک شعبدہ بازی قرار دیتے ہیں۔کابینہ ڈویڑن کے 17 ستمبر کو جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و نفاذ کیلئے قائم کمیٹی کی سفارشات پر غور کرنے کے بعد وفاقی حکومت نے ان تجاویز پر فوری طور پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔
حکومت کے اعلان کے مطابق سرکاری گاڑیوں کیلئے ایندھن کی فراہمی میں تین ماہ تک پچاس فیصد کمی کی جائے گی۔ اس حکم نامے میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ایف بی آر کی آپریشنل گاڑیوں کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ نیز ترقیاتی منصوبوں کو بھی استثنیٰ حاصل ہے۔ تاہم اداروں کی انتظامی و دفتری گاڑیوں کیلئے اس حکم نامے کے تحت تین ماہ کیلئے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی گئی ہے۔پٹرول اخراجات میں یہ کمی بیرون ملک کام کرنے والے سفارتی مشنوں کے اہلکاروںا ور اعلیٰ سفارت کاروں سمیت سبھوں پر لاگو ہو گی۔
البتہ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا۔ دوسرے ترقی پذیر ممالک کو پاکستان کے اس اقدام سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔