ملبہ کی عدم صفائی سے حادثات میں اضافہ، عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کی فوری توجہ ضروری، ٹریفک کے بہاؤ میں کوئی راحت نہیں
حیدرآباد۔/27 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میں ٹریفک مسائل سے نمٹنے کیلئے حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر سڑکوں کی توسیع کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس منصوبہ کے تحت نہ صرف نئے شہر بلکہ پرانے شہر کے علاقوں میں عمل کیا جارہا ہے۔ سڑکوں کی توسیع کا کام عام طور پر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے جبکہ اہم سڑکوں کی تعمیر و توسیع کی ذمہ داری محکمہ عمارات و شوارع اور ایچ ایم ڈی اے کو دی جاتی ہے۔ پرانے شہر میں سڑکوں کی توسیع سے اگرچہ عوام کو سہولت ہونی چاہیئے لیکن توسیعی کام راحت کے بجائے مصیبت ثابت ہورہے ہیں۔ اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے ایک معاوضہ کی ادائیگی میں تاخیر یا پھر معاوضہ سے غیر مطمئن افراد کی جانب سے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے کاموں کو روکنا شامل ہے۔ دوسری اہم وجہ توسیع کے بعد انہدامی ملبہ کی عدم صفائی ہے جو عوام کیلئے مصیبت بن چکی ہے اور حادثات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ پرانے شہر کے دودھ باؤلی، فتح دروازہ، بہادر پورہ، کشن باغ، چندرائن گٹہ اور دیگر علاقوں میں سڑکوں کی توسیع کیلئے مکانات اور ملگیات کو حاصل کیا گیا اور عہدیداروں کے مطابق مالکین کو معقول معاوضہ بھی ادا کیا جارہا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مکانات اور دکانات کے انہدام کے بعد ملبہ کی صفائی اور اسے کسی اور مقام پر منتقل کرنے کے بجائے عہدیدار تساہل سے کام لے رہے ہیں۔ کئی مقامات پر ملبہ کو سڑک پر یوں ہی چھوڑ دیا گیا ہے یا پھر سڑک پر موجود گڑھوں میں پھیلادیا جاتا ہے۔ دن اور رات کے اوقات میں سڑک پر ملبہ کے نتیجہ میں ایک تو ٹریفک میں خلل تو دوسرا حادثات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں کئی نوجوان اور ضعیف افراد زخمی ہوئے اور بعض واقعات میں ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں۔ تیز رفتار گاڑیوں کی زد میں آکر ٹووہیلرس سوار اور پیدل راہرو نشانہ بن رہے ہیں۔ مقامی عوام کی شکایت ہے کہ عہدیداروں اور عوامی نمائندوں سے بارہا اپیل اور توجہ دہانی کے باوجود ملبہ کی صفائی پر پوری توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ ملبہ کو دیگر مکانات اور دکانات کے سامنے پھیلانے سے مکینوں اور گاہکوں کو آنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ سڑکوں کی توسیع کا اہم مقصد فوت ہورہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سڑکوں کی توسیع کے سلسلہ میں انہدامی کارروائی کے فوری بعد ملبہ کو صاف کردیا جائے اور سڑکوں پر موجود گڑھوں کی مرمت سمنٹ اور ریت سے کردی جائے تاکہ مستقل طور پر مسئلہ حل ہوسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی سے کنٹراکٹر کو ملبہ کی صفائی کیلئے علحدہ بل منظور کیا جاتا ہے لیکن اس رقم کو بچانے کیلئے زیادہ تر کنٹراکٹرس صفائی پر توجہ نہیں دیتے اور ملبہ کو سڑک پر ہی پھیلادیتے ہیں۔ کمشنر جی ایچ ایم سی اور مقامی ارکان اسمبلی کو اچانک دورہ کرتے ہوئے سڑکوں کی توسیع کے کام کا جائزہ لینا چاہیئے۔ کئی علاقوں میں دکانداروں نے شکایت کی ہے کہ ملبہ کی عدم صفائی کے نتیجہ میں ان کا کاروبار متاثر ہورہا ہے۔ ایسے دکاندار اور ہوٹل مالکین جو سیاسی اثر و رسوخ کے حامل ہیں وہ کسی طرح اپنی دکانات اور ملگیات کے سامنے سے ملبہ کی صفائی کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ سڑکوں کی توسیع کے بعد ٹریفک کے بہاؤ میں آسانی کے بجائے توسیع شدہ حصہ میں گاڑیوں اور خاص طور پر ٹووہیلرس اور آٹوز کی پارکنگ سے توسیع کا مقصد فوت ہورہا ہے۔عوام کو راحت پہنچانے کیلئے بلدی حکام کو چاہیئے کہ انہدامی کارروائی کے فوری بعد ملبہ کو سڑک سے ہٹادیں۔ حالیہ عرصہ میں کئی اسکولوں کی گاڑیوں کو حادثہ ہوا اور پیدل اسکول جانے والے طلبہ بھی حادثات کا شکار ہوئے۔ر