ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس مشرق وسطیٰ میں ہونے والے واقعات پر فکر مند ہے اور اس کا خیال ہے کہ وہاں تنازعات کے حل کیلئے حالات پیدا کرنے میں اس کا کردار ہے۔ پوتن نے مزید کہا کہ ماسکو نہیں چاہتا کہ تنازع پھیلے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خطے کا کوئی بھی ملک مکمل جنگ نہیں چاہتا۔ پوتن نے کہا کہ مشرق وسطیٰ مکمل جنگ کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔آج جمعرات کو روسی شہر قازان میں برکس پلس سربراہی اجلاس اور دوستوں کے پہلے مکمل اجلاس سے پہلے اپنے خطاب میں روسی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا بحران تاریخ کا سب سے خونی بحران بن گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مشرق وسطیٰ کے بحران سے تشویش پیدا ہوتی ہے۔ غزہ میں جنگی کارروائیاں لبنان تک پھیل گئی ہیں۔ اس سے خطے کے کئی ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کو مکمل جنگ کے دہانے پر کھڑا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھنے کے ساتھ بحران کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور سکول اور ہاسپٹل تباہ ہو رہے ہیں۔روسی صدر پوتن نے نشاندہی کی کہ بحران کے آغاز سے ہی روس نے برکس کے اراکین اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر اس بحران کو حل کرنے میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ یاد رہے یہ برکس کے ارکان کیلئے ایک ہنگامی ویڈیو سیشن تھا تاکہ متاثرہ افراد کیلئے امداد پہنچانے کی کوشش کی جا سکے۔