شواہد کی بنیاد پر تحقیقات ، تلگودیشم آفس پر حملہ کے معاملہ میں پولیس کی کوتاہی کا اعتراف
حیدرآباد۔/5نومبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر پون کلیان کے پولیس سے متعلق دھمکی آمیز بیان پر ریاست میں سیاسی ماحول گرم ہوچکا ہے۔ جرائم سے نمٹنے کے مسئلہ پر پولیس کے رویہ پر اعتراض کرتے ہوئے پون کلیان نے انتباہ دیا تھا کہ اگر وزارت داخلہ وہ حاصل کرلیں تو پھر صورتحال مختلف ہوجائے گی۔ پون کلیان کے اس بیان پر اپوزیشن نے سخت اعتراض جتایا جبکہ آندھرا پردیش کے ڈائرکٹر جنرل پولیس ڈی ترومل راؤ نے کہا کہ پولیس کسی بھی سیاسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گی۔ اننت پور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پون کلیان کے ریمارکس کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ڈائرکٹر جنرل پولیس نے واضح کیا کہ پولیس سیاسی دباؤ کے تحت کام نہیں کرتی بلکہ دستور اور قانون کے مطابق فرائض انجام دیتی ہے۔ انہوں نے پون کلیان کے بیان پر کسی بھی تبصرہ سے گریز کیا اور کہا کہ پولیس حقائق کی بنیاد پر کسی بھی مقدمہ کی تحقیقات کرتی ہے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی دور حکومت میں تلگودیشم آفس پر حملہ کے واقعہ پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم آفس پر حملہ کے معاملہ میں اس وقت کے عہدیداروں نے مقدمہ درج نہیں کیا اور نہ ہی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ ملزمین کی شناخت کیلئے فنگر پرنٹ کی ٹکنالوجی کا استعمال نہیں کیا گیا۔ سابق سی آئی ڈی سربراہ سنجے کی بے قاعدگیوں کی جانچ کی جارہی ہے۔ ڈی جی پی آفس میں دستخط کرنے والے افراد میں 10 آئی پی ایس عہدیداروں کو پوسٹنگ دی گئی ہے باقی عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کرتے ہوئے عنقریب کارروائی کی جائے گی۔ آندھرا پردیش میں کمسن لڑکیوں پر جنسی مظالم کے واقعات میں اضافہ پر پون کلیان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو وارننگ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ ہوم منسٹر بن جائیں تو صورتحال مختلف رہے گی۔ سوشیل میڈیا پر پون کلیان کا بیان وائرل ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگودیشم پارٹی کے قائدین نے بھی جنا سینا کے سربراہ کے بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔1