پوپ کی تنقید ‘ ٹرمپ کی برہمی

   

ہم ہر نفس کھلائیں گے اپنے لہو سے پھول
تم اہتمام دار و رسن ہر گھڑی کرو
مشرق وسطی جنگ کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان پر دنیا پرا یک بڑی جنگ مسلط کردینے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں وہیں کئی ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے محض ٹرمپ کے خوف سے اس سارے معاملہ میں لب کشائی کرنے سے گریز کیا ہوا ہے اور وہ خاموشی اختیار کرنے ہی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کئی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ٹرمپ کا اس جنگ میں ساتھ نہیں دیا ہے لیکن وہ جنگ رکوانے کیلئے بھی کسی طرح کی کوشش کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ایسے میں عیسائی برادری کے مذہبی رہنماء پوپ لیو Pope Leo نے اس جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ مذہبی تعلیمات میں اس طرح کی جنگ کی گنجائش نہیں ہے اور عیسائی مذہب کی تعلیمات کا اس طرح بیجا استعمال نہیں کیا جانا چاہئے جس طرح کچھ لوگ اس جنگ کیلئے کر رہے ہیں۔ ان کا اشارہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب تھا جو لگاتار ایران کے خلاف جنگ کو ہوا دینے میں مصروف ہیں اور ایک طرح سے انہوں نے اس جنگ کو مذہبی لڑائی کا نام دینے کی کوشش بھی کی ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں حدود کو پھلانگنے کی بھی کوشش کی ہے اور انہوں نے سوشیل میڈیا پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے خود کو یسوع مسیح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ٹرمپ کی یہ کوشش اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کے معاملے میں کس طرح سے اپنا ذہنی توازن کھوتے جا رہے ہیں اور وہ نہ کسی کی تنقید کو برداشت کرنے تیار ہیں اور نہ ہی کسی کو خاطر میں لانے تیار ہیں۔ وہ جس طرح دنیا کے مختلف ممالک پر اپنے احکام مسلط کرتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق کام کروانا چاہتے ہیں اسی طرح سے مذہبی حلقوں پر بھی اپنا تسلط چاہتے ہیں۔ وہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ مذہبی حلقے بھی ان کے احکام پر ہی عمل آوری کریں اور ان کے تابع ہی رہیں۔ٹرمپ اپنے اسی رویہ کی وجہ سے جہاں کئی دوستوں سے محروم ہورہے ہیں وہیں وہ شائد اب مذہبی حلقوں کی ناراضگی کا بھی شکار ہوسکتے ہیں ۔ ان پر تنقیدیں تو پہلے ہی سے ہو رہی ہیں۔
پوپ لیو نے مشرق وسطی جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ خدا ان لوگوں کو معاف نہیں کرتا جو لوگوں پر جنگ مسلط کرتے ہیں یا تشدد کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پوپ لیو کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں ٹرمپ کے ساتھ کسی طرح کی بحث کرنا نہیں چاہتے تاہم اتنا ضرور کہیں گے کہ مذہبی تعلیمات کو اپنے مفادات کی خاطر اورا پنے منشاء کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ٹرمپ جس طرح سے اپنے ناٹو حلیفوں اور دوسرے ممالک پر ناراضگی اور برہمی کا اظہار کر رہے ہیں اسی طرح انہوں نے پوپ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جرائم کے معاملے میں کمزور قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پوپ کی خارجہ پالیسی بھی انتہائی نامناسب ہے ۔ جہاں ٹرمپ کی بیان بازیوں سے دنیا کے کئی ممالک خوف کا شکار ہونے لگے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ٹرمپ کی ناراضگی مول لیں وہیں پوپ نے تاہم اس معاملے میں کسی خوف کا شکار ہونے سے انکار کردیا ہے اور کہا کہ وہ ٹرمپ سے خوفزدہ نہیں ہونگے اور جنگ کے خلاف اپنے اظہار خیال کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔ٹرمپ نے خود کو یسوع مسیح کے طور پر پیش کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جس تصویرکو سوشیل میڈیا پر شئیر کیا ہے اس کے نتیجہ میں ٹرمپ کو ان حلقوں اور گوشوں سے بھی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو عموما ان کی حمایت کرتے رہے تھے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ اپنی ذہنی حالت کی وجہ سے اپنے حامیوں کی تائید و حمایت سے بھی لگاتار محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
پوپ لیو کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کے خلاف پوری شدت کے ساتھ اپنا اظہار خیال جاری رکھیں گے اور امن کو فروغ دینے کی کوشش کرتے رہیں گے ۔ وہ مسائل کے حل کیلئے ممالک کے مابین باہمی تعلقات اور مذاکرات کی بھی وکالت کرتے رہیں گے ۔ اس طرح پوپ لیو نے انسانیت کے حق میں ایک پیام دینے کی کوشش کی ہے اور ٹرمپ اس پر لگاتار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید مذاق کا موضوع بن رہے ہیں۔ ٹرمپ کو چاہئے کہ وہ اپنے موقف کا ازسر نو جائزہ لیں۔ جنگی جنون سے باہر آئیں اور امن و استحکام کیلئے سنجیدہ کوششیں کریں تاکہ دنیا کو بے طرح مسائل کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے ۔