پٹرول اور ڈیزل کے ویاٹ میں تلنگانہ حکومت نے کوئی اضافہ نہیں کیا : کے ٹی آر

   

مرکزی حکومت سیس منسوخ کرتی ہے تو عوام کو آج بھی 70 روپئے پٹرول اور 60 روپئے فی لیٹر ڈیزل دستیاب ہوگا
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے 2014 تا 2021 تک پٹرول اور ڈیزل پر 56,020 کروڑ روپئے کا ویاٹ وصول کیا ہے ۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے اس کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے پٹرول پر ٹی آر ایس حکومت نے ویاٹ پر کوئی اضافہ نہیں کیا ہے ۔ ایسے میں ٹی آر ایس حکومت پر پٹرول کے ٹیکس میں اضافہ کرنے کا جو بھی الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ وہ بے بنیاد ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ سال 2014 میں خام تیل کی قیمت 105 ڈالر تھی تب پٹرول 70 روپئے فی لیٹر فروخت کیا گیا ۔ ابھی بھی عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت اتنی ہی ہے ۔ مگر عوام کو 120 روپئے فی لیٹر پٹرول دستیاب ہورہا ہے ۔ پٹرول کی قیمت اتنی کیوں بڑھ گئی اس کی وضاحت کرنے کا مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے مطالبہ کیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ نان پرفارمننس اسٹیس ( این پی اے ) مرکزی حکومت کی طرف سے اضافہ کردہ اکسائز ڈیوٹی اور سیس کیا اس اضافہ کے لیے ذمہ دار نہیں ہے ۔ این ڈی اے کے دور حکومت میں 26 لاکھ کروڑ روپئے سیس کی شکل میں عوام سے لوٹ لیا گیا کیا یہ حقیقت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں پر انگلیاں اٹھانے سے قبل مرکزی حکومت پہلے اپنا محاسبہ کریں ۔ سیس میں جو اضافہ کیا گیا ہے اس کو منسوخ کرنے پر آج بھی عوام کو 70 روپئے میں فی لیٹر پٹرول اور 60 روپئے فی لیٹر ڈیزل حاصل ہوگا ۔ اگر یہی بات آپ اپنے وزیراعظم کو بتائے تو بہتر ہوگا ۔۔ ن