گھریلو پکوان گیس پر فی سلنڈر 3.50 روپئے کمرشیل گیس کی قیمت 8 روپئے بڑھ گئی
حیدرآباد ۔ 19 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : مرکزی حکومت نے پھر ایک مرتبہ پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے عوام پر مالی بوجھ عائد کیا ہے ۔ پٹرول ، ڈیزل ، اشیاء ضروریہ ، خوردنی تیل ، ترکاری اور چکن وغیرہ کی آسمان چھوتی قیمتوں سے پہلے ہی غریب و متوسط طبقہ کے عوام پریشان ہیں ۔ 12 دن کے دوران آئیل کمپنیوں کی جانب سے پکوان گیس کی قیمتوں پر دوسری مرتبہ اضافہ کیا ہے ۔ گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں فی سلنڈر 3.50 روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی کمرشیل گیس کی قیمتوں میں فی سلنڈر 8 روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ جس سے ملک بھر کے تمام شہروں میں ڈومیسٹک گیس کی قیمت 1000 روپئے کو عبور کرچکی ہے ۔ تازہ اضافہ کے ساتھ دہلی اور ممبئی میں گھریلو ضروریات کیلئے استعمال ہونے والے 14 کیلو سلنڈر کی قیمت 1003 روپئے ہوگئی ۔ اس طرح کولکتہ میں 1029 روپئے چینائی میں 1018.5 روپئے حیدرآباد میں 1055 روپئے ہوگئی جاریہ ماہ 7 مئی کو گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں 50 روپئے کا اضافہ کیا گیا تھا اس کے علاوہ 19 کیلو کمرشیل گیس سلنڈر پر 8 روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ جس سے اس کی قیمت بڑھ کر فی سلنڈر 2364 روپئے تک پہونچ گئی ہے ۔ 19 دن میں کمرشیل ضروریات کیلئے استعمال ہونے والے گیس کی قیمت میں دوسری مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ یکم مئی کو کمرشیل گیس کی قیمتوں میں فی سلنڈر 102.50 روپئے کا اضافہ کیا گیا تھا ۔۔ ن