پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ ، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ کے مترادف : کے ٹی آر

   

ٹی آر ایس کا ریاست گیر احتجاج ، سڑکوں پر پکوان ، وزیراعظم مودی کے پتلے نذر آتش
حیدرآباد ۔ 7 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر کی ہدایت پر ٹی آر ایس کی جانب سے پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف ریاست بھر میں احتجاجی دھرنے منظم کئے گئے ، تمام منڈل ، اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس پر سڑکوں پر لگاتے ہوئے احتجاج درج کیا گیا ۔ مودی ڈاؤن ڈاؤن کے نعرے لگاتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے نذر آتش کیے گئے ۔ ان احتجاجی دھرنوں میں ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی ارکان پارلیمنٹ اور ارکان قانون ساز کونسل نے حصہ لیتے ہوئے اضافی شدہ قیمتوں سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ۔ کے ٹی آر نے پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے دور حکومت میں گھروں کے کچن میں آگ لگی ہوئی ہے ۔ مرکزی حکومت قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے ۔ پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج کرنے والے ٹی آر ایس کے کیڈر سے وزیر بلدی نظم و نسق نے اظہار تشکر کیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مودی کے 8 سالہ دور حکومت میں 170 فیصد پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ ساری دنیا میں سب سے زیادہ ہندوستان میں پکوان گیس کی قیمتیں مقرر کرتے ہوئے عالمی ریکارڈ بنایا گیا ہے ۔ 50 روپئے کے تازہ اضافہ سے ایک سال کے دوران پکوان گیس کی قیمتوں میں 244 روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ سال 2014 میں جب مودی نے وزیراعظم کی ذمہ داری قبول کی تھی تب پکوان گیس کی قیمت 410 روپئے فی سلنڈر تھی جو اب بڑھ کر 1105 روپئے تک پہونچ گئی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ایک طرف روپیہ کی قدر گھٹ رہی ہے ۔ دوسری طرف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے ۔ نیا روزگار فراہم کرنے میں مودی حکومت ناکام ہوگئی ہے ۔ غلط پالیسیوں سے جو لوگ روزگار سے وابستہ تھے وہ بھی اپنی ملازمتوں سے محروم ہوگئے ہیں ۔۔ ن