پہلاردعمل :ہمارا ٹرمپ کو مبارکباد دینے کاکوئی ارادہ نہیں

   

دوسرا ردعمل : اگر ٹرمپ بات کرنا چاہتے ہیں تو میں بھی تیار ہوں : پوٹن

ماسکو : روسی صدارتی محل ‘کریملن’ کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیرپوتن کا ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔صحافیوں کے سوال پر دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ صدر پوتن کا، انتخابات میں کامیابی پر، ٹرمپ کو مبارکباد دینے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ روس۔امریکہ تعلقات کی موجودہ صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیسکوف نیکہا ہے کہ “ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ براہ راست اور بالواسطہ طور پر ہمارے خلاف جنگ میں شامل ایک دشمن ملک ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ پوتن کے ٹرمپ کو مبارکباد نہ دینے سے روس۔امریکہ تعلقات مزید خراب ہوں گے یا نہیں’ پیسکوف نے کہا ہیکہ تعلقات کا مزید خراب ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ ہمارے تعلقات پہلے ہی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہیں اور ان کے مستقبل کا دارومدار امریکہ کی نئی انتظامیہ پر ہے۔یوکرین تنازعہ کے حل کے لیے پوتن کی ٹرمپ سے ٹیلیفونک ملاقات کی توقع سے متعلق سوال پر پیسکوف نے کہا ہیکہ “اس سوال کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ پوتن رابطے اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یہ ہمارا مستقل موقف ہے اور پوری دنیا اسے جانتی ہے۔ آئیے ٹھوس اقدامات کا انتظار کریں۔امریکہ کی یوکرین پالیسی میں تبدیلی کی توقعات کے بارے میں پوچھے جانے پر ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم اس گنجائش سے استفادہ کیا جاتا ہے یا نہیں، یہ ہم جنوری میں ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد دیکھیں گے۔ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے سے متعلق استفسار پر کہ وہ، ایک رات میں یوکرین جنگ ختم کروا سکتے ہیں پیسکوف نے کہا ہیکہ ہم نے کئی بار کہا ہے کہ امریکہ کے پاس یوکرین تنازعہ کو ختم کرنے کی طاقت موجود ہے لیکن جہاں تک اسے ایک رات میں ختم کرنے کی بات ہے یہ ناممکن ہے۔دوسری طرف روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ کے 47 ویں صدر ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔پوتن نے روس کے شہر سوچی میں منعقدہ انٹرنیشنل والداے ڈسکشن کلب کے اجلاس میں بات چیت کی۔پوتن نے کہا کہ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کے دوران انکے برتاؤ سے متاثر ہوئے اور کہا کہ اس بات سے متاثر ہواکہ وہ ایک بہادر آدمی ہیں۔پوتن نے کہا کہ ٹرمپ اپنا صدارتی کارکردگی کا آخری دور گزار رہے ہیں اور کیا کچھ ہو سکتا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، لیکن انہوں نے روس کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے اور یوکرین بحران کے خاتمے میں معاونت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ کم از کم غور کرنے لائق ہے۔پوتن نے کہا کہ روس امریکی عوام کے ذریعے منتخب ہونے والے صدر کے ساتھ کام کرے گا اور واقعی ایسا ہی ہوگا۔ میں اس موقع کا استعمال کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں امریکی صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دوں، اگر کوئی بھی رابطے کو جاری رکھنا چاہتا ہے تو ہم اس کے خلاف نہیں ہیں۔پوتن نے کیا آپ ٹرمپ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہاں میں تیار ہوں۔