پراچی راتھوڑ اور روتھ جان پال نے کہا کہ یہاں تک پہونچنے کے لیے کئی توہین آمیز سلوک کا سامنا کیا ہے
حیدرآباد ۔ 30 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : عثمانیہ ہاسپٹل میں کنٹراکٹ کی بنیاد پر دو خواجہ سراء ( ٹرانسجینڈرس ) کا بطور ڈاکٹرس پہلی مرتبہ انتخاب عمل میں آیا ہے جو عوام کو طبی خدمات فراہم کریں گے ۔ ان دو ٹرانس جینڈرس پراچی راتھوڑ اور روتھ جان پال نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس مقام تک پہونچنے کے لیے کئی توہین آمیز سلوک کو برداشت کیا ہے ۔ حالت سے گھبرائے بغیر مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ ہمیں عوامی خدمات کا موقع ملا ہے ۔ اس موقع کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے ۔ ان دونوں نے کہا کہ وہ اس وقت ہاسپٹل کے اینٹی ریٹرو وائرل ڈپارٹمنٹ میں بطور ڈاکٹر خدمات انجام دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پہلی مرتبہ ٹرانس جینڈرس کو یہ موقع ملنے پر وہ بہت زیادہ خوش ہیں ۔ ضلع کھمم کی روتھ جان پال نے 2018 میں ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی ۔ اس کے بعد انہوں نے شہر کے 15 ہاسپٹلس میں بطور ڈاکٹر کام کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی بالآخر اس نے 2021 میں اپنی دوست ڈاکٹر پراچی کے ساتھ مل کر نارائن گوڑہ میں ایک ٹرانسجینڈر کلینک قائم کیا ۔ فی الحال یہ کلینک ٹھیک چل رہا ہے ۔ اسی دوران عثمانیہ ہاسپٹل میں بحیثیت ڈاکٹر خدمات انجام دینے کا موقع ملا ۔ عادل آباد رمس میں ایم بی بی ایس اور ایمرجنسی میڈیسن کی تعلیم مکمل کرنے والی پراچی راتھوڑ نے ایک کارپوریٹ ہاسپٹل میں تین سال تک کام کیا ۔ ڈاکٹر پراچی نے کہا کہ ہاسپٹل انتظامیہ کو ان کے ٹرانسجینڈر ہونے کا علم ہونے کے بعد انہیں ملازمت سے برخاست کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ سرکاری ہاسپٹل میں خواجہ سراؤں کو بطور ڈاکٹر خدمات فراہم کرنے کا موقع ملنے پر وہ بہت زیادہ خوش ہیں ۔ عثمانیہ ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ناگیندر نے کہا کہ پہلی مرتبہ ٹرانسجینڈرس ڈاکٹرس کی خدمات سے استفادہ کرنے پر انہیں بھی بہت زیادہ خوشی ہورہی ہے ۔۔ ن