چپ کارڈس کی قلت ، دوبارہ پی وی سی ڈرائیوینگ لائیسنس جاری کرنے کا فیصلہ

   


تائیوان کی جانب سے چپس کی اجرائی میں تاخیر پر محکمہ ٹرانسپورٹ کی کارروائی
حیدرآباد 29 نومبر ۔ (سیاست نیوز) محکمہ ٹرانسپورٹ نے ڈرائیونگ لائیسنس کیلئے چپ کارڈ کی بجائے پرانے زمانے کے پولی وینیل کاربن (PVC) کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس سلسلے میں احکام جاری کردیئے گئے ہیں ۔ محکمہ ٹرانسپورٹ میں قلت کا مسئلہ سال 2016 ء سے شروع ہوا جو بھی قلت پیدا ہوئی ہے اگر اس پر دو یا تین ماہ کے دوران قابو پالیا جاتا ہے تب بھی اس کو طلب کے مطابق دستیاب کرانا ممکن نہیں ہے کیونکہ حالیہ بین الاقوامی واقعات میں تائیوان میں چپس اور سیمی کنڈکٹرز کی تیاری پر شدید اثر ڈالا ہے ۔ اس پس منظر میں یہ واضح ہوگیا کہ چپس کی فراہمی اب ممکن نہیں ہے ۔ تمام اُمور کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد ٹرانسپورٹ عہدیداروں نے ڈرائیونگ لائیسنس اور آر سی بغیر چپ کارڈ کے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ عہدیداروں نے تاخیر سے اس پر غور کیا جبکہ پہلے سے لاکھوں کارڈس کی اجرائی زیرالتواء ہے۔ اگر ایک یا دو ماہ قبل فیصلہ کرلیا جاتا تو اتنی بھاری تعداد میں کارڈس زیرالتواء نہیں ہوتے ۔ محکمہ سے پہلے کاغذ پر مبنی ڈرائیونگ لائیسنس اور آر سی جاری کئے جاتے تھے ۔ گاڑی راں درخواستگذاروں کو درخواست فارم میں ایک کاغذ پر لرنر لائیسنس ، ڈرائیونگ لائیسنس ( ڈی ایل ) اور آر سی کے طورپر جاری کئے جاتے تھے ۔ 2022 ء سے ریاست میں پی وی سی کارڈس پر ڈی ایل اور آر سی کی اجرائی کا آغاز ہوا ہے ۔ یہاں تک کہ 2009 ء تک ان کارڈس کی شکل میں جو دستاویزات جاری کئے جاتے تھے اس کیلئے محکمہ ٹرانسپورٹ 200 روپئے وصول کیا کرتا تھا ساتھ ہی 20 روپئے فیس اور 250 سرویس چارجس وصول کئے جاتے تھے ۔ 2009 ء میں حیدرآباد سنٹرل زون سے چپ کارڈ جاری کرنے کی منظوری دی گئی ۔ اس کے بعد چپ کارڈس کے نام پر فیس میں اضافہ کردیا گیا فی الوقت چپ کارڈ کیلئے 200 روپئے وصول کئے جا رہے ہیں۔ فی الحال زیرالتواء چپ کارڈس کیلئے گاڑی رانوں سے 200 روپئے جی ایس ٹی وصول کئے گئے ۔ چند شورومس سے گاڑی خریدی کے وقت رجسٹریشن چارجس کے نام پر 385 روپئے سے زیادہ چارجس وصول کئے گئے لیکن 20 روپئے کم سے بھی قیمت کے پی وی سی کارڈس جاری کئے گئے ۔ زیادہ وصول کی گئی فیس واپس کی جائے گی یا سرکاری خزانے میں جائیگی یہ بات موضوع بحث ہے ۔ن