رانچی : چھتیس گڑھ کے ضلع بیجاپور میں 28 سالہ صحافی مکیش چندراکر 3 جنوری کو ایک ٹھیکیدار کی سیوریج ٹینک میں مردہ پائے گئے۔ میڈیا کے مطابق مقامی نیوز چینل کیلئے کام کرنے والے مکیش چندراکر نے حال ہی میں بدعنوانی کا پردہ فاش کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق مکیش چندراکر نے حال ہی میں ایک ٹھیکیدار سریش چندراکر کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ دی تھی۔مکیش چندراکر یکم جنوری کی رات سے لاپتہ تھے۔ صحافی نے 120 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والی ایک سڑک کی تعمیر کے منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا تھا۔جس کے بعد حکومت نے ٹھیکیدار کی سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کردی تھیں۔مکیش چندرا نے کنٹریکٹر کی ملکیت میں موجود ایک مقام پر سریش چندراکر کے بھائی رتیش سے ملاقات کی تھی اس کے بعد سے ان کا فون بند تھا ۔ صحافی کے بڑے بھائی یوکیش چندراکر نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔3 جنوری کو مکیش چندراکر کی نعش ایک گھر کے احاطہ میں پانی کے ٹینک کے اندر سے ملی تھی جہاں صحافی کو آخری بار دیکھا گیا تھا۔ایک سینئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ تحقیقات شروع کی گئی ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کیا گیا اور اس کی آخری لوکیشن بھی ملی۔اس سلسلہ میں 2رشتہ داروں سمیت3افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پرینکا گاندھی نے اس واردات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خاطیوں کوفوری سزا کا مطالبہ کیا ہے۔