ڈیجیٹل انڈیا کارنامہ اگست میں UPI کے ذریعے 2451 کروڑ کی ادائیگیاں

   

29.82 لاکھ کروڑ کی خرید و فروخت ، روزانہ 79.1 کروڑ کی لین دین ، ملک میں کیش لیس ادائیگیوں کا نیا دھماکہ
حیدرآباد ۔ 2 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا ( NPCI ) کے جاری کردہ تازہ ترین سنسنی خیز اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا انقلاب ایک نئے افق کو چھو رہا ہے ۔ رواں سال اگست 2026 کے مہینے میں UPI کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں کی تعداد 2451 کروڑ ( 24.51 بلین ) کی تاریخی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہونچ گئی ہے ۔ ان تمام مالیاتی لین دین کی جملہ مالیت حیران کا طور پر 29.82 لاکھ کروڑ روپئے ریکارڈ کی گئی ۔ روزانہ 79 کروڑ روپئے سے زائد کی لین دین ہوئی ہے ۔ جولائی کے مقابلے اگست میں UPI کے ذریعے ہونے والی خرید و فروخت کی تعداد میں 3.6 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ یہ تعداد کے لحاظ سے نیا عالمی ریکارڈ قائم کرنے والا مسلسل دوسرا مہینہ ہے ۔ رقم کی مجموعی مالیت میں 0.2 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی جس کی اہم وجہ عام شہریوں کا چھوٹی چھوٹی خریداروں کے لیے بھی کیش لیس طریقہ انتخاب کرنا ہے ۔ ماہرین کے مطابق ملک بھر میں روزانہ اوسطاً 79.1 کروڑ ادائیگیاں کی جارہی ہیں جو ہندوستان میں جاری ٹکنالوجیکل اور ڈیجیٹل انقلاب کا واضح ثبوت ہے ۔ صرف یو پی آئی ہی نہیں بلکہ دیگر ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمس میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ۔ ٹول پلازوں پر فاسٹ ٹیگ کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیاں بڑھ کر 35.1 کروڑ تک پہونچ گئی ۔ فوری فنڈ ٹرانسفر کے نظام IMPS کے ذریعے 36 کروڑ Transactions ہوئے ۔ دیہی اور دور دراز علاقوں میں آدھار پر مبنی ادائیگیوں (AEPS) کا حجم 10.4 کروڑ درج کیا گیا ۔ صنعت اور فینانشیل مارکٹ سے وابستہ ذرائع کے مطابق اگرچہ فی لین دین اوسط رقم کی قیمت میں معمولی کمی آئی ہے ۔ لیکن اس کی بڑی وجہ عوام کا بدلتا ہوا طرز زندگی ہے ۔ اب عام شہری جنرل اسٹورس ، ترکاری کی دکانوں اور یہاں تک کہ آٹو اور ٹیکسی کرایوں جیسی معمولی ادائیگیوں کے لیے بھی نقدی کے بجائے ڈیجیٹل والٹ اور یو پی آئی کا استعمال کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ملک میں غیر نقد معیشت کی رفتار بلندیوں پر پہونچ چکی ہے ۔۔ 2/m/b