وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
کانگریس پارٹی جنوبی ہند میں کچھ مستحکم موقف رکھتی ہے اور اس کی تین ریاستوں میں اپنی حکومتیں ہیں جبکہ ایک ریاست ٹاملناڈو میں وہ حکومت میں شریک ہے ۔ جنوبی ہند کی ایک اہم ریاست کرناٹک میں کانگریس نے سب سے پہلے اقتدار حاصل کیا تھا ۔ پھر تلنگانہ میں حکومت بنائی اور اب کیرالا میںکامیابی درج کروائی ہے ۔ جہاں تک کرناٹک کی بات ہے تو وہاں قیادت کا مسئلہ ایک اہمیت کا حامل مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ کرناٹک میںکانگریس کو اقتدار دلانے میں موجودہ ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار کی محنت اور قیادت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ انتخابی کامیابی کے بعد کانگریس نے ڈی کے شیو کمار کی بجائے سدا رامیا کو اقتدار حوالے کیا تھا اور وہ چیف منسٹر بنائے گئے تھے ۔ کہا جارہا تھا کہ ابتدائی ڈھائی برس سدارامیا چیف منسٹر ہونگے اور بعد کے ڈھائی سال میں ڈی کے شیوکمار کو موقع دیا جائے گا ۔ گذشتہ چند مہینوں سے ڈی کے شیوکمار کا مسئلہ وقفہ وقفہ سے توجہ حاصل کرتا جا رہا ہے ۔ شیوکمار کے حامی ارکان اسمبلی میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ہائی کمان اپنے وعدے کے مطابق شیوکمار کو چیف منسٹر کا عہدہ فراہم کریں۔ جہاںتک سدا رامیا کی بات ہے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ چیف منسٹر کاعہدہ چھوڑنے کو تیار نہیںہیں وہ پانچ سال کی معیاد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ ہائی کمان اس معاملے میں نہ اگلتے ہی بنے اور نہ نگلتے ہی بنے والی صورتحال کا شکار دکھائی دے رہی ہے ۔ وہ موجودہ چیف منسٹر کو ہٹانے کی ہمت جٹا نہیںپا رہی ہے اور اس کیلئے ڈی کے شیوکمار کو نظر انداز کرنا بھی آسان نہیںرہ گیا ہے ۔ ڈی کے شیوکمار کی تنظیمی اور انتظامی صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور کانگریس بھی اس بات کی معترف ہے ۔ ایسے میں اب شائد کانگریس ہائی کمان اس تعلق سے کوئی فیصلہ کرنے کیلئے آگے آسکتا ہے کیونکہ چیف منسٹر سدا رامیا کو ہائی کمان کی جانب سے دہلی طلب کرلیا گیا ہے ۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیلئے سدارامیا کو دہلی طلب کیا گیا ہے ۔ تاہم یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ریاست میں قیادت کے مسئلہ پر بھی غور کیا جاسکتا ہے ۔
کانگریس کیلئے ضروری ہے کہ وہ کرناٹک کے مسئلہ پر کوئی قطعی فیصلہ کرلے ۔ اس مسئلہ کو جتنا طول دیا جائے گا اتنا ہی پارٹی کیلئے آئندہ اسمبلی انتخابات میں مشکل پیدا ہوسکتی ہے ۔ کانگریس کے حلقوں میں جو بے چینی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے اسے دور کرنا پارٹی کیلئے ضروری ہے ۔ کرناٹک جنوبی ہند کی وہ واحد ریاست ہے جہاں بی جے پی مستحکم موقف رکھتی ہے اور وہاںاس نے ایک سے زائد مرتبہ اقتدار بھی سنبھالا ہے ۔ ایسے میں اگر آئندہ اسمبلی انتخابات میںکانگریس کو پھر سے کامیابی حاصل کرنی ہے تو اسے قیادت کے مسئلہ پر دو ٹوک موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ٹال مٹول کی پالیسی پارٹی کیڈر کیلئے اچھا پیام نہیںدے سکتی اور اس کا انتخابات میںنقصان بھی ہوسکتا ہے ۔ پارٹی کو اس مسئلہ پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کرلینے کی ضرورت ہے ۔ ڈی کے شیوکمار چاہتے ہیں کہ اب انہیںفوری طور پر چیف منسٹر کا عہدہ دے دیا جائے تاکہ ان کے پاس آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل تک مناسب وقت رہے کہ وہ انتظامیہ پر گرفت بناسکیں اور عوام میں اچھی امیج بناتے ہوئے دوبارہ انتخابات کیلئے میدان میںا تر سکیں۔ اگر کانگریس پارٹی کو کرناٹک کی قیادت میں تبدیلی کرنی ہے تو اسے اس کا فیصلہ بھی جلدی ہی کرنا چاہئے ۔ شیوکمار کے حامیوں کو زیادہ دیر تک انتظار کروانا پارٹی کے مفاد میں نہیںہوگا اور نہ ہی پارٹی کے انتخابی امکانات کیلئے یہ کوئی اچھا اثر ڈال سکتا ہے ۔ جو کچھ بھی فیصلہ کرنا ہے وہ جتنا جلدی کیا جائے گا اتنا ہی بہتر ہوسکے گا ۔
اگر کانگریس پارٹی چاہتی ہے کہ سدا رامیا ہی ساری معیاد کیلئے برقرار رہیں تو اس کا بھی پارٹی کو ابھی سے اعلان کردینے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی نتیجہ سامنے آسکے اور وقفہ وقفہ سے جو مسئلہ موضوع بحث بن رہا ہے وہ ختم ہوسکے ۔ ریاست کے عوام کو بھی ایک پیام دینے کی ضرورت ہے کہ کانگریس پارٹی اس تعلق سے قطعی فیصلہ کرچکی ہے ۔ حکومت کے کام کاج کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جانا چاہئے اور ٹال مٹول سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ اب جبکہ سدا رامیا کو دہلی طلب کیا گیا تو قیادت کے مسئلہ پر بھی پارٹی کو فیصلہ کرلینے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات ذہن نشین رکھنی چائے کہ آنکھ مچولی کی پالیسی پارٹی کے مفاد میں نہیںہوسکتی ۔