صدرجمہوریہ کی منظوری کا انتظار، وفد میں مہیش کمار گوڑ، پونم پربھاکر، عامر علی خاں، ڈاکٹر کیشو راؤ اور دوسرے شامل
حیدرآباد 2 مئی (سیاست نیوز) پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے کانگریس قائدین نے آج گورنر تلنگانہ جشنودیو ورما سے راج بھون میں ملاقات کی اور پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی سے متعلق بل کی منظوری اور اُسے صدرجمہوریہ دروپدی مرمو کے پاس روانہ کرنے پر اظہار تشکر کیا۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور وزیر بہبودی پسماندہ طبقات پونم پربھاکر کی قیادت میں کانگریس قائدین نے گورنر سے ملاقات کی۔ گورنر سے ملاقات کرنے والے وفد میں حکومت کے مشیر برائے عوامی اُمور ڈاکٹر کے کیشو راؤ، ارکان کونسل عامر علی خاں، بسواراج ساریا، وجئے شانتی، ارکان اسمبلی پرکاش گوڑ، بی ایلیا، راج ٹھاکر، رکن راجیہ سبھا انیل کمار یادو، سابق ارکان پارلیمنٹ مدھو گوڑ یاشکی، انجن کمار یادو، سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ کے علاوہ مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین اور پارٹی کے بی سی قائدین شامل تھے۔ کانگریس قائدین نے گورنر جشنودیو ورما کو تہنیت پیش کی اور تلنگانہ حکومت کی جانب سے بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کے فیصلہ کو منظوری کا خیرمقدم کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ طبقاتی سروے رپورٹ کی بنیاد پر بی سی طبقات کا تعین کرتے ہوئے 42 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے ہیں۔ بعد میں صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے طبقاتی سروے کا اہتمام کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس پارٹی کے کاماریڈی ڈیکلریشن پر عمل کرتے ہوئے 42 فیصد تحفظات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ پسماندہ طبقات کو ہر شعبہ میں ترقی کے مواقع فراہم کرنے اور سماجی انصاف کے تحت تعلیم، روزگار اور سیاست میں تحفظات فراہم کئے گئے۔ گورنر نے 8 اپریل کو تلنگانہ حکومت کے بل کو منظوری دی اور اُسے صدرجمہوریہ کے پاس روانہ کیا تاکہ کلیئرنس لیا جائے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ طبقاتی سروے مردم شماری کا سہرا کانگریس قائد راہول گاندھی کے سر جاتا ہے۔ تلنگانہ اِس سلسلہ میں ملک کے لئے رول ماڈل ثابت ہوئی اور مرکزی حکومت کی جانب سے طبقاتی مردم شماری کا فیصلہ کانگریس حکومت کی اہم کامیابی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ ماڈل کو اختیار کرنے کے لئے مرکز کی بی جے پی حکومت مجبور ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ راہول گاندھی کے فیصلہ کے مطابق تلنگانہ حکومت نے سروے کا نہ صرف اہتمام کیا بلکہ رپورٹ کی بنیاد پر 42 فیصد تحفظات فراہم کئے ہیں۔1