بھارت جوڑو یاترا کے 100 کی تکمیل پر قرارداد،جانا ریڈی ، محمد علی شبیر، سدرشن ریڈی، چنا ریڈی کی شرکت
حیدرآباد۔/18ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کانگریس کمیٹی میں اختلافات آج اس وقت کھل کر منظر عام پر آگئے جب پردیش کانگریس کمیٹی کے توسیعی اجلاس میں مخالف ریونت ریڈی گروپ نے شرکت نہیں کی۔ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے 100 دن کی تکمیل اور ملک میں کانگریس کی جانب سے گاؤں گاؤں میں ہاتھ سے ہاتھ جوڑو یاترا کے آغاز کے سلسلہ میں اے آئی سی سی نے ہر ریاست میں پردیش کانگریس عاملہ کے توسیعی اجلاس کی ہدایت دی تھی۔ گاندھی بھون میں ورکنگ پریسیڈنٹ مہیش کمار گوڑ کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا جس میں صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، اے آئی سی سی سکریٹری ندیم جاوید، سی ایل پی لیڈرس جانا ریڈی، محمد علی شبیر، ورکنگ پریسیڈنٹ انجن کمار یادو، اے آئی سی سی سکریٹری چنا ریڈی، ناگم جناردھن ریڈی، بلرام نائیک، ملو روی، پونم پربھاکر، سدرشن ریڈی، صدر ضلع کانگریس حیدرآباد سمیر ولی اللہ، صدر خیریت آباد روہن ریڈی کے علاوہ مختلف اضلاع کے صدور، پردیش کانگریس کے جنرل سکریٹریز، پولٹیکل افیرس کمیٹی کے ارکان اور عاملہ کے ارکان نے شرکت کی۔ محاذی تنظیموں کے صدور بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں راہول گاندھی کی یاترا کے 100دن کی تکمیل پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے قرارداد منظورکی گئی۔ پردیش کانگریس کی عاملہ میں شامل کئے گئے قائدین کو مبارکباد پیش کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ راہول گاندھی کی پدیاترا کے اختتام کے بعد ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح تلنگانہ کے ہر گاؤں میں ہاتھ سے ہاتھ جوڑو یاترا شروع کی جائے گی۔ ریونت ریڈی نے قائدین اور کارکنوں سے پارٹی کے استحکام میں اہم رول ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام بی آر ایس حکومت سے نالاں ہیں اور کانگریس کو برسراقتدار لانا ہرکسی کی ذمہ داری ہے۔ اجلاس میں ریونت ریڈی مخالف گروپ کے قائدین توقع کے مطابق شریک نہیں ہوئے جن میں اتم کمار ریڈی، بھٹی وکرامارکا، مدھو یاشکی گوڑ، دامودھر راج نرسمہا، ڈاکٹر جے گیتا ریڈی، ایم کودنڈا ریڈی، مہیشور ریڈی اور دوسرے شامل ہیں۔ر