کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے تلنگانہ کی عوام سے معذرت خواہی کریں

   

گیارنٹی کا اعلان کرنے سے قبل ریاستی بجٹ کا جائزہ لینے کا مشورہ دینے پر کے ٹی آر کا سخت ردعمل
حیدرآباد۔ یکم ؍ نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کے ریاستوں کے بجٹ کا جائزہ لینے کے بعد گیارنٹی کا اعلان کرنے کا ریمارکس کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تلنگانہ کے عوام سے معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے اے آئی سی سی صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ریاستوں کے بجٹ کا جائزہ لنے کے بعد گیارنٹی کا اعلان کیا جائے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ کرناٹک میں 5 گیارنٹی اور تلنگانہ میں 6 گیارنٹی کا اعلان کرنے سے قبل دونوں ریاستوں کے بجٹ کا کیوں جائزہ نہیں لیا گیا؟ کھرگے سے سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے کانگریس پارٹی نے 6 گیارنٹی کے ساتھ دیگر کئی اہم وعدے کرتے ہوئے تلنگانہ کے چار کروڑ عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھایا گیا۔ کانگریس کے جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے عوام نے کانگریس کو اقتدار سونپ دیا مگر 10 ماہی اقتدار میں کانگریس حکومت 6 گیارنٹی کے ساتھ دوسرے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ جھوٹے گیارنٹیوں سے ریاستوں میں معاشی بحران پیدا ہونے کا کانگریس پارٹی کو آج اندازہ ہو رہا ہے۔ لہذا ملکارجن کھرگے جھوٹے وعدے کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے پر تلنگانہ کے عوام سے معذرت خواہی کریں۔ وعدے کرنے سے قبل کانگریس پارٹی نے بجٹ کا جائزہ نہیں لیا۔ صرف اقتدار کو اہمیت دی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں ریاست نے بڑی تیزی سے ترقی کی ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں ترقی تھم گئی ہے۔ فلاحی اسکیمات برائے نام ہوگئی ہیں۔ کانگریس کو آج اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے۔ کانگریس کی یہ غلطی ناقابل معافی ہے۔ 2