جسم بے حس بے شکن بستر رہا
میں نئے انداز سے مضطر رہا
عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال ایک بار پھر سے سیاسی طور پر سرگرم ہوگئے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ گوا میں غیر کانگریس و غیر بی جے پی اتحاد بناتے ہوئے انتخابات میں مقابلہ کریں گے ۔ اروند کجریوال وقفہ وقفہ سے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انتخابات میں مقابلہ کرتے رہے ہیں اور ہر بار انہوں نے بی جے پی کو راست یا بالواسطہ طور پر فائدہ ہی پہونچایا ہے ۔ انہوں نے گجرات میں ‘ ہریانہ میں ‘ خود دہلی کے لوک سبھا حلقوں میں اور دیگر ریاستوں میں انتخابات میں مقابلہ کرتے ہوئے بی جے پی کیلئے راہ ہموار کی ہے اور کانگریس کی راہ میں ہمیشہ سے رکاوٹیںپیدا کی ہیں۔ جس کسی ریاست میں بی جے پی کیلئے حالات مشکل نظر آتے ہیں وہاں مخالف بی جے پی اتحاد کو مستحکم کرنے کی بجائے اروند کجریوال نت نئے بہانے پیش کرتے ہوئے کانگریس کو کمزور کرنے والا راستہ اختیار کرتے ہیں اور وہاں بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار ہوجاتی ہے ۔ ہریانہ میں ہوئے گذشتہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر ساری ریاست میں مخالف بی جے پی لہر پیدا ہوگئی تھی ۔ خود بی جے پی کے حلقوں میں مایوسی دکھائی دے رہی تھی ۔ کئی قائدین بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار کر رہے تھے ۔ اس موقع پر کانگریس نے عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی پیشکش کی تھی ۔ کچھ نشستوں کو چھوڑنے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا تھا لیکن اروند کجریوال نے عین وقت تک ٹال مٹول کرتے ہوئے کانگریس کے ساتھ اتحاد نہیں کیا اور تنہا مقابلہ کیا ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ کانگریس کی یقینی دکھائی دیتی ہوئی کامیابی اور بی جے پی کی ناکامی تبدیل ہوگئی ۔ کانگریس اقتدار سے دور رہی اور بی جے پی ریاست میں دوبارہ اقتدایر حاصل کرپائی ۔ گوا میں بھی گذشتہ اسمبلی انتخابات میں اروند کجریوال نے یہی طریقہ کار اختیار کیا تھا اور وہاں بی جے پی اقتدار کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کی تھی ۔ اب بھی وہ گوا میں یہی طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی کی بجائے کانگریس کو روکنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
ابتداء میں پالیسیوں اور پروگرامس کی بنا پر اروند کجریوال کی عوامی مقبولیت اچھی رہی تھی تاہم ان کے تعلق سے بالکل ابتداء سے یہی رائے ہے کہ دہلی میں کانگریس کو ٹھکانے لگانے کیلئے اور قومی سطح پر ماحول بنانے کیلئے آر ایس ایس کی جانب سے اروند کجریوال کی مدد کی گئی تھی اور دہلی انتخابات میں انہیں ناقابل یقین کامیابی دلانے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ حالانکہ کجریوال ان الزامات کی تردید کرتے ہیں لیکن ان کے جو اقدامات ہوتے ہیں وہ ان شبہات کو تقویت دینے کا سبب بنتے ہیں۔ ملک کی درجنوں ارکان پارلیمنٹ رکھنے والی سیاسی جماعتیں آج اس بات کو سمجھ رہی ہیں کہ فی الحال بی جے پی کو شکست دینے کیلئے تمام مخالف جماعتوں کا آپس میں اتحاد ضروری ہے ۔ ایک دوسرے کو مستحکم کرتے ہوئے بی جے پی کا مقابلہ کیا جانا چاہئے ۔ اس کی مثالیں موجود ہیں۔ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی ‘ مغربی بنگال میں ممتابنرجی ‘ ٹاملناڈو میں جوزف وجئے ‘ بہار میں تیجسوی یادو اور کئی چھوٹی جماعتیں ایسی ہیں جو کانگریس کے ساتھ مل کر اتحاد کر رہی ہیں لیکن اروند کجریوال ہمیشہ سے مخالف کانگریس ذہنیت کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں اور وہ راست یا بالواسطہ طور پر ہمیشہ سے بی جے پی کیلئے فائدہ کا سبب بنتے رہے ہیں۔ گوا میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل انہوں نے ایک بار پھر اپنی پرانی روش شروع کردی ہے اور وہ کانگریس و بی جے پی دونوں کے خلاف محاذ کی بات کر رہے ہیں۔
زبانی دعوے اور باتیں اپنی جگہ لیکن ان کے جو اقدامات ہیں وہ ملک میں سکیولر جماعتوں اور طاقتوں کو کمزور کرنے ‘ ان کے اتحاد میں رخنہ پیدا کرنے اور اپوزیشن کی صفوں کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں اور بی جے پی کے استحکام ‘ اس کی کامیابیوں اور اس کے عروج کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ ایسے میں ملک کے عوام اور خاص طور پر جن ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں وہاں کے عوام کو اس حقیقت کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے اور سکیولر طاقتوں کے استحکام کو یقینی بنانا چاہئے ۔