کرناٹک میں ایس آئی آر مؤخر کرنے کا مطالبہ

   

سرکاری ویب سائٹ پر بی ایل اوز اور ان کے سپروائزروں سے متعلق دو مختلف فہرستیں موجود:کانگریس
بنگلورو، 29 جون (آئی اے این ایس) کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) نے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر سے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کا عمل اس وقت تک مؤخرکیا جائے جب تک بوتھ لیول افسران (بی ایل او) اور ان کے سپروائزروں کی درست اور تصدیق شدہ معلومات جاری نہیں کر دی جاتیں۔ الیکشن کمیشن نے ریاست میں گھر گھر جا کر ووٹروں کی جانچ کے خصوصی مہم کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، تاہم کانگریس نے اس عمل پر اعتراض اٹھایا ہے۔ کے پی سی سی کے میڈیا و مواصلات شعبے کے چیئرمین اور رکن قانون ساز کونسل رمیش بابو نے چیف الیکٹورل آفیسر کو پیش کردہ یادداشت میں الزام عائد کیا کہ سرکاری ویب سائٹ پر بی ایل اوز اور ان کے سپروائزروں سے متعلق دو مختلف فہرستیں موجود ہیں، جن میں کئی مقامات پر نام اور موبائل نمبر ایک دوسرے سے مختلف درج ہیں۔ کانگریس کے مطابق ایک فہرست بی ایل اوز اور بی ایل او سپروائزر لسٹ کے نام سے جاری کی گئی ہے، جبکہ دوسری فہرست ووٹر سہولت مراکز، بی ایل او سہولت مراکز اور افسران کی رابطہ معلومات پر مشتمل ہے۔ دونوں فہرستوں کا موازنہ کرنے پر متعدد پولنگ علاقوں میں متضاد معلومات سامنے آئی ہیں۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی حلقہ 128 اور 153 سمیت کئی مقامات پر مختلف بی ایل اوز اور سپروائزروں کے نام اور موبائل نمبر درج ہیں، جس سے ووٹروں، سیاسی جماعتوں، بوتھ لیول ایجنٹس اور دیگر متعلقہ افراد میں شدید الجھن پیدا ہو رہی ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ اگر کوئی ووٹر ایک فہرست میں درج افسر سے رابطہ کرے تو دوسری فہرست میں کسی اور افسرکا نام موجود ہوتا ہے، جس سے ووٹر فہرست میں نام شامل کروانے، درستگی یا اخراج جیسے امور متاثر ہو سکتے ہیں۔ پارٹی نے چیف الیکٹورل آفیسر سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں فہرستوں میں موجود تضادات فوری طور پر دور کیے جائیں، ایک ہی مستند فہرست جاری کی جائے، غلط یا پرانی معلومات ویب سائٹ سے ہٹائی جائیں، عوامی وضاحت جاری کی جائے، تمام اضلاع میں رابطہ معلومات کی دوبارہ جانچ کی جائے، اور اگر فوری اصلاح ممکن نہ ہو تو خصوصی نظرثانی کا عمل مؤخرکردیا جائے۔ کانگریس نے مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی عمل نہ صرف شفاف ہونا چاہیے بلکہ عوام کو بھی اس کی شفافیت پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے، اور متضاد سرکاری معلومات اس اعتماد کو متاثر کر سکتی ہیں۔