بیلگاوی، 14 اکتوبر (یو این آئی) کرناٹک میں گنا کسانوں نے بدھ کو مسلسل دوسرے دن قومی شاہراہ-48 پر چکہ جام جاری رکھا۔ مرکزی وزراء پرہلاد جوشی اور شیوراج سنگھ چوہان کے ساتھ بات چیت میں مطالبات پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہ ہونے کے بعد کسانوں نے گنے کی قیمت 5,500 روپے فی ٹن مقرر کرنے کے مطالبے پر اپنی تحریک مزید تیز کر دی ہے ۔کرناٹک اور مہاراشٹر کی سرحد پر واقع کوگنولی ٹول پلازا پر کی گئی اس ناکہ بندی سے دونوں ریاستوں کے درمیان آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ اس کے پیش نظر پولیس نے پونے ، کولہاپور اور کرناٹک کے درمیان سفر کرنے والے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو قومی شاہراہ سے گزرنے سے بچنے اور متبادل راستے اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ پیر کو نئی دہلی میں کسان نمائندوں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے دوران مرکزی حکومت نے گنے سے شکر کی پیداوار کی شرح، وزن میں بے ضابطگیوں، کٹوتیوں اور دیگر مسائل کی جانچ کے لیے ایک ہفتے کے اندر اعلیٰ سطحی مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم، یہ یقین دہانی گنے کی قیمت کے معاملے پر جاری فوری تنازع کو حل کرنے میں ناکام رہی۔کرناٹک اسٹیٹ رائت سنگھ کے رہنما چنپا پجاری نے اس میٹنگ کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے بنیادی مطالبے پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا گیا ہے ۔ گنے کی قیمت 5,500 روپے فی ٹن مقرر کرنے کے علاوہ مظاہرین شکر کی کم از کم فروخت قیمت 60 روپے فی کلوگرام مقرر کرنے ، سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے اور کرناٹک میں تیار ہونے والے ایتھنول کی سرکاری خریداری کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔