کروڑہا روپیوں کی وقف آمدنی کو نقصان ، وقف بورڈ ذمہ دار

   


محکمہ اقلیتی بہبود کی عدم توجہ ، درگاہوں کے ہراج میں رکاوٹیں
حیدرآباد۔23۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کروڑہا روپئے کی آمدنی سے محروم ہورہا ہے اور کسی کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ وقف بورڈ کو ہونے والے نقصانات سے بچایاجاسکے۔ بورڈ کے تحت موجود درگاہوں کے ہراج کے سلسلہ میں کئے جانے والے ٹال مٹول کے سبب ریاستی وقف بورڈ کروڑہا روپئے کی آمدنی سے محروم ہونے لگا ہے اور عہدیداروں کی جانب سے اس معاملہ میںاختیار کردہ موقف سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وقف بورڈ کے ذمہ داران خود یہ چاہتے ہیںکہ ریاست میں موجود اوقافی جائیدادوں کو نقصان ہو اور انہیں اس کا بالواسطہ فائدہ حاصل ہوتا رہے۔وقف بورڈ کی تشکیل نوکے بعد سے پیداشدہ صورتحال کے سبب وقف بورڈ کو نہ صرف قانونی مقدمات میں شکست کے سبب نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ درگاہوں کے غولک کے ہراج میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کے سبب بھی کروڑہا روپئے کی آمدنی متاثر ہونے لگی ہے۔ درگاہ حضرت سید جہانگیر پیراںؒ شاد نگر‘ درگاہ حضرت سید جان پاک شہید ؒ نلگنڈہ ‘ درگاہ انارم شریف ورنگل کے کنٹراکٹرس کی معیاد مکمل ہوئے زائد از3ماہ گذرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان درگاہوں کے امور کی نگہداشت اور غولک کے ہراج کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز نہیں کیا گیا بلکہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ اور چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے درمیان جاری رسہ کشی کے سبب بورڈ کو حاصل ہونے والی کروڑہا روپئے کی آمدنی سے وقف بورڈ محروم ہورہا ہے۔ حکومت تلنگانہ اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے عدم توجہی کے سبب پیدا شدہ صورتحال سے گذشتہ تین ماہ کے دوران وقف بورڈ کو ان تین درگاہوں کے ہراج میں حائل رکاوٹوں کے سبب 10 کروڑ روپئے تک کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ بورڈ کو کئی مقدمات میں شکست کا بھی سامنا کرنا پڑاہے۔ درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ جو کہ کنٹراکٹر کی معیاد کی تکمیل کے بعد اب وقف بورڈ کے راست انتظامیہ میں ہے اور درگاہ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو زائرین کے لئے کسی بھی طرح کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے بلکہ درگاہ میں جابجا کچہرے کے انبار پڑے ہوئے ہیں۔ بورڈ کے امور کو بہتربنانے کے اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں جو حالات پیدا ہو رہے ہیں وہ حکومت کی جانب سے اوقافی جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اختیارکردہ مکمل خاموشی و عدم توجہی تلنگانہ میں حکومت اور عہدیداروں کے حقیقی چہرہ کو آشکار کرنے لگی ہے۔ ریاستی حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے معاملہ میں ناکام ہونے کے ساتھ ساتھ اب درگاہوں کے ذریعہ بورڈ کو حاصل ہونے والی آمدنی پر بھی قدغن لگانے کی کوشش کر رہی ہے ۔تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے راست انتظام میں اب محض درگاہ حضرات یوسفینؒ نہیں ہے بلکہ درگاہ انارم شریف‘ درگاہ جہانگیر پیراںؒ اور درگاہ حضرت جان پاک شہید ؒبھی شامل ہیں۔م