تلنگانہ کے سرکردہ سیاسی قائدین کو کروڑہا کا نقصان
حیدرآباد۔3جولائی (سیاست نیوز) عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ کے بعد اس بات کا انکشاف ہونے لگا ہے کہ ریاست تلنگانہ کے کئی سیاستدانوں نے کروڑہا روپئے اس کرپٹو کرنسی میں کی گئی سرمایہ کاری کے سبب گنوائے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں سیاستدانوں کی سرمایہ کاری کو ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانا بے انتہاء مشکل ہوچکا ہے کیونکہ کئی سیاستدانوں نے تیزی سے کرپٹو کرنسی میں ریکارڈ کئے جانے والے اچھال کو دیکھتے ہوئے سیاستدانوں نے اپنی دولت میں اضافہ کے لئے اس میں سرمایہ کاری کی تھی لیکن ماہ مئی کے بعد سے کرپٹو کرنسی کی قدر میں ریکارڈ کی جانے والی گرواٹ اور اس میں بہتری کی امید نے تمام سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔سرمایہ کاری پر نظر رکھنے والے اداروں اور ایجنسیوں کے مطابق ریاست تلنگانہ کے کئی ٹی آر ایس قائدین نے بھی کرپٹو کرنسی میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی اور گذشتہ مرکزی بجٹ کے دوران کرپٹو کرنسی کو قابل قبول بنانے کے علاوہ اسے باقاعدہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تجاویز نے سیاستدانوں کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی جانب سے راغب کیا تھا لیکن اب جو گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے وہ اس تشویشناک صورتحال سے پریشان ہیں کیونکہ انہیں اب یہ یقین ہونے لگا ہے کہ ان کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ نقصان اٹھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ امریکہ میں تجرباتی اساس پر شروع کئے گئے TerraUSD کرپٹو کا ناکام تجربہ کئی کرپٹو کرنسی کو نقصان پہنچا چکا ہے اور جن لوگوں نے بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کی تھی وہ اب تک کرپٹو کرنسی میں بہتری آنے کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ دیگر کرپٹو کرنسی Luna اور دیگر کی حالت میںبھی انتہائی ابتر ہونے کے سبب کہا جا رہاہے کہ کرپٹو کرنسی کے بازار میں اب بہتری ریکارڈ کیا جانا مشکل ہے۔ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والے سیاستدانوں میں بیشتر وہ سیاستداں ہیں جن کے اپنے ذاتی کاروبار بھی ہیں لیکن اب وہ کرپٹو کرنسی کی حالت سے پریشان ہیں کیونکہ ان کا یہ احساس تھا کہ تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کرپٹو کرنسی کے بازارسے بھی اچھی خاصی آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے اور بغیر کسی خطرہ کے سرمایہ کاری کی گئی دولت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔ عالمی بازار میں کرپٹو کرنسی کی صورتحال پر ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ کرپٹو کرنسی کے مستقبل کے متعلق فوری طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا کیونکہ اگر عالمی معیار کی کمپنیوں کی جانب سے کرپٹو کرنسی میں لین دین شروع کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حالات تبدیل ہوسکتے ہیں۔م