چندی گڑھ میں چیکس کی تقسیم ۔ جذبہ جدوجہد کو کے سی آر کا سلام ۔ ، اروند کجریوال اور بھگونت مان کے ہمراہ تقریب میں شرکت، مرکزپر تنقید
حیدرآباد۔/22 مئی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج پنجاب کے چندی گڑھ میں کسان ایجی ٹیشن میں جان قربان کرنے والے کسانوں کے خاندانوں کو فی کس 3 لاکھ روپئے کے امدادی چیکس تقسیم کئے۔ انہوں نے گلوان وادی میں چینی افواج کے ساتھ جھڑپ میں شہید پنجاب کے فوجی جوانوں کے پسماندگان کو تلنگانہ حکومت کی جانب سے فی کس 10 لاکھ روپئے کی امداد حوالے کی۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال اور چیف منسٹر پنجاب بھگونت مان کے ہمراہ چندی گڑھ کے ٹیگور آڈیٹوریم میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ چیف منسٹر کے سی آر کے استقبال کیلئے آڈیٹوریم کے باہر خیرمقدمی بیانرس اور کٹ آؤٹس نصب کئے گئے تھے۔ کے سی آر نے کسانوں اور فوجی جوانوں کے پسماندگان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں پرسہ دیا۔ امدادی چیکس کی تقسیم کی تقریب میں چیف سکریٹری تلنگانہ سومیش کمار، وزیر عمارات و شوارع پرشانت ریڈی، پارلیمانی لیڈر ناما ناگیشور راؤ اور پنجاب حکومت کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے پنجاب کے کسانوں کے جذبہ جدوجہد کو سراہا اور کہا کہ مرکزی حکومت کے سیاہ زرعی قوانین سے دستبرداری تک پنجاب کے کسانوں نے جدوجہد جاری رکھتے ہوئے مثال قائم کی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ وہ پنجاب کے کسانوں کے جذبہ جدوجہد کو سلام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جدوجہد کے دوران تقریباً 600 کسانوں نے اپنی جان قربان کی۔ اسی طرح ملک کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے گلوان وادی میں پنجاب کے جوانوں کی شہادت پر خراج پیش کیا۔ کے سی آر نے کہاکہ تلنگانہ حکومت نے 600کسانوں کے خاندانوں کیلئے فی کس 3 لاکھ روپئے اور فوجی جوانوں کے خاندانوں کیلئے فی کس 10 لاکھ روپئے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسانوں اور جوانوں کے خاندانوں سے ملاقات کو اپنے لئے باعث فخر تصور کرتے ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پنجاب کسانوں نے جدوجہد کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہید بھگت سنگھ کی قربانیوں سے متاثر ہوکر کسانوں نے بھی لمحہ آخر تک جدوجہد کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو سیاہ زرعی قوانین واپس لینے پر مجبور کردیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نوجوان فوج میں شامل ہوتے ہوئے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے کسانوں نے اپنی پیداوار کے ذریعہ ملک کیی بھوک کو مٹانے کا کام کیا ہے۔ آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے باوجود ملک کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کسانوں کے مسائل ابھی تک پوری طرح حل نہیں ہوئے ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ مرکزی حکومت زرعی شعبہ پر مختلف پابندیاں عائد کررہی ہے۔ انہوں نے زرعی شعبہ کو مفت برقی کی سربراہی کے باوجود میٹرس کی تنصیب کیلئے مرکز کے دباؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے اس بارے میں سوال کرنے پر ملک سے غداری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ کے سی آر نے حکومت کی مخالفت کرنے والوں پر دیش دروہی کے مقدمات پر برہمی کا اظہار کیا۔ تقریب کے بعد چیف منسٹر پنجاب بھگونت مان کی سرکاری قیامگاہ پر تینوں چیف منسٹرس کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر قومی سیاسی صورتحال اور ریاستوں کو درپیش مسائل پر بات چیت ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نئی دہلی واپس ہوگئے۔ ان کے ہمراہ اروند کجریوال بھی چندی گڑھ سے نئی دہلی واپس ہوئے۔ر