کسان مارچ کو روکنے کی کوشش : تاجروں کو کروڑوں کا نقصان

   

سرحدوں کو مہربند کرنے سے 4000 مال بردار ٹرکس پھنس گئے، ٹریڈ بورڈ کے صدر بجرنگ گرگ کا بیان
چندی گڑھ: ہریانہ پردیش ٹریڈ بورڈ کے صوبائی صدر بجرنگ گرگ نے منگل کو کہا کہ کسانوں کے دہلی مارچ کو روکنے کیلئے ہریانہ حکومت کے پنجاب اور دہلی سے متصل سرحدوں کو سیل کرنے کی وجہ سے مال سے بھرے 4000 سے زیادہ ٹرک سڑکوں پر پھنس گئے ہیں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔گرگ نے یہاں جاری بیان میں کہا کہ اس کے علاوہ انٹرنیٹ خدمات بند ہونے کی وجہ سے آن لائن ٹریڈنگ، آن لائن بلنگ، آن لائن بینکنگ ممکن نہیں ہے اور کاروبار اور دیگر سرگرمیاں پوری طرح سے متاثر ہو گئی ہیں۔گرگ نے کہا کہ چاروں طرف سے رکاوٹیں لگا کر عوام کو قید کرنا مناسب نہیں ہے اور حکومت کو اپنے وعدے کے مطابق کسانوں کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی ضمانت کیلئے قانون بنانے ، قرض کی معافی اور دو سال قبل کسانوں کی تحریک کے دوران درج مقدمات کو واپس لینے سمیت مطالبات کے ساتھ کسان تنظیموں نے دہلی کوچ کا اعلان کیا ہے ۔ کسان تنظیموں کو تحریک ملتوی کرنے کے لئے راضی کرنے کی خاطرمرکز سے بھیجے گئے تین وزراء کے درمیان کل رات ہوئی بات چیت ‘ناکام’ ہوچکی ہے اور کسان رہنماؤں نے کہا کہ حکومت ان کے کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کر رہی ہے اور صرف تحریک کو ملتوی کرنا چاہتی ہے لیکن تحریک جاری رہے گی۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ منگل کے روز ای ڈی دفتر میں حاضر نہیں ہوئے ۔نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اس وقت جموں میں قیام پذیر ہیں لہذا وہ آج حاضر نہ ہو سکے ۔بتادیں کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس کیس میں چارج شیٹ بھی داخل کیا ہے ۔