بٹوگے تو کٹوگے … اپوزیشن کو عوام کا مشورہ
ممتا بنرجی … عوام ہار گئے… SIR کی جیت
رشیدالدین
’’بٹوگے تو کٹوگے‘‘ ہر الیکشن میں ہندوؤں کو متحد کرنے بی جے پی کا یہ نعرہ ہوتا ہے لیکن پانچ ریاستی اسمبلیوں کے نتائج کے بعد عوام کی جانب سے اپوزیشن کے لئے یہ نعرہ ایک مشورہ کی طرح ہے۔ مغربی بنگال ، آسام ، ٹاملناڈو ، کیرالا اور پڈوچیری کے نتائج نے اپوزیشن کو درس دیا ہے کہ انتشار کے نتیجہ میں بی جے پی نے الیکشن سسٹم کو یرغمال بنالیا۔ اگر اپوزیشن پارٹیاں ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لیں گی تو سارے ملک پر زعفرانی پرچم لہرائے گا اور اپوزیشن کو کوئی بھی طاقت بچا نہیں پائے گی۔ وہ دور ختم ہوچکا ہے جب الیکشن میں رائے دہندے اپنے نمائندہ کا انتخاب کرتے تھے۔ صورتحال یہ ہوگئی کہ مرکز کی بی جے پی حکومت یہ طئے کر رہی ہے کہ ووٹر کون ہوگا اور کس کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن جب بی جے پی کے الیکشن ایجنٹ کا رول ادا کرنے لگے تو عجب نہیں کہ 2029 میں ہندو راشٹر کا خواب پورا ہوجائے۔ اسمبلی چناؤ میں ممتا بنرجی کو SIR کے ذریعہ الیکشن کمیشن نے شکست دے دی ۔ ٹاملناڈو میں سلور اسکریننگ کے اسٹار وجئے نے سیاسی میدان میں قدم رکھتے ہوئے ایم کے اسٹالن کے قلعہ کو فتح کرلیا۔ آسام میں توقع کے مطابق ہیمنت بسوا سرما نے اقتدار کی ہیٹ ٹرک کی ۔ کیرالا میں کانگریس زیر قیادت یو ڈی ایف کی واپسی ہوئی اور ملک بھر میں بائیں بازو کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا۔ مغربی بنگال اور آسام میں SIR نے بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار کی ہے ۔ آسام میں حلقہ جات کی از سر نو حدبندی کے ذریعہ ہندو آبادی والے حلقے تیار کئے گئے جس کا بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ الیکشن کی خاص بات یہ رہی کہ جنوبی ہند میں بی جے پی قدم جمانے میں ناکام رہی۔ مغربی بنگال کے نتائج کا تجزیہ کرنے سے قبل اپوزیشن کی مجموعی شکست کی وجوہات پر نظر ڈالتے ہیں۔ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ذریعہ ووٹ چوری ، حکومت چوری اور ووٹ خریدی کا آغاز کیا تو اپوزیشن نے متحدہ مقابلہ کرنے کے بجائے اپنے اپنے مفادات کو ترجیح دی۔ جس کے نتیجہ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں الٹ پھیر کی لڑائی درمیان میں ہی ختم ہوگئی اور مشینوں کو قبول کرلیا گیا۔ اسی طرح مہاراشٹرا میں ووٹ چوری کے خلاف جب راہول گاندھی نے ثبوت پیش کیا تو اپوزیشن نے ان کا ساتھ نہیں دیا جس کا نقصان ہریانہ ، بہار اور مغربی بنگال میں ہوا ہے۔ اپوزیشن نے ووٹ چوری کے خلاف متحد ہونے کے بجائے راہول گاندھی کو تنہا کردیا اور SIR مہم تسلیم کرلی گئی۔ سپریم کورٹ سے SIR کے معاملہ میں انصاف کی امید بہت کم ہے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ نے ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن پر کنٹرول کا منصوبہ 2024 لوک سبھا چناؤ کے بعد تیار کیا۔ بی جے پی نے اب کی بار 400 پار کا نعرہ لگایا تھا لیکن عوام نے 240 پر بی جے پی کو روک دیا ۔ اسی وقت بی جے پی نے طئے کرلیا تھا کہ ریاستوں میں اقتدار کے لئے کچھ بھی کریں گے اور اپوزیشن کا صفایا کیا جائے گا۔ عوامی فیصلہ کی چوری کرتے ہوئے بی جے پی نے جمہوری انتخابی عمل کو یرغمال بنانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ مہاراشٹرا ، ہریانہ ، دہلی اور بہار میں انتخابی عمل پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے جمہوریت کو پامال کیا گیا لیکن سیاسی پارٹیوں اور عوام کو کوئی احساس نہیں ہوا۔ اسمبلی نتائج کے بعد اپوزیشن کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ شائد غلطی ہوگئی۔ ای وی ایم مشینوں میں الٹ پھیر کے منظر عام پر آنے کے بعد بیالٹ پیپر کے ذریعہ چناؤ کے حق میں متحدہ جدوجہد کی جاتی تو نوبت SIR تک نہیں پہنچتی۔ انتخابی دھاندلیوں اور ایس آئی آر کے ذریعہ لاکھوں نام حذف کرتے ہوئے جب بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموات کی گئی تو اسی وقت اپوزیشن نے سڑکوں پر آنے کے بجائے ایر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر سپریم کورٹ پر انحصار کیا۔ 2014 کے بعد سپریم کورٹ سے حکومت کے خلاف شائد ہی کوئی فیصلہ آیا ہو۔ اسی طرح SIR کے معاملہ میں بھی سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی۔ جس پارٹی کو الیکشن کمیشن سے چوٹ لگی ، اسی نے آواز لگائی لیکن دوسروں نے ساتھ نہیں دیا۔ دراصل سیاست کا عوام سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے اور سیاسی قائدین نے جدوجہد اور حق کیلئے لڑنا سیکھا ہی نہیں۔ قائدین کی زندگی آرام اور آسائش کے اطراف قید ہوچکی ہے۔ شکست در شکست کے بعد اپوزیشن کو یہ احساس ہونے لگا کہ وہ کہیں کے نہیں رہے اور بی جے پی نے الیکشن سسٹم پر عملً قبضہ کرلیا ۔ یہ وہی ممتا بنرجی ہیں جنہوں نے کانگریس کے خلاف تیسرے محاذ (تھرڈ فرنٹ) کیلئے شرد پوار کو اکسایا تھا۔ کے سی آر نے قومی سیاست میں قسمت کو آزمایا لیکن گمنام ہوگئے۔ کے سی آر کی دعوت پر اکھلیش یادو ، پی وجین اور اروند کجریوال پہنچے تھے لیکن ان کا کیا حشر ہوا عوام کے سامنے ہیں۔ کجریوال سے دہلی چھن گئی اور اب پنجاب کی باری ہے۔ مہاراشٹرا میں شیوسینا اور این سی پی کو توڑ دیا گیا اور سپریم کورٹ نے باغی گروپس کو اصلی پارٹی کا درجہ دے دیا۔ ہریانہ ، دہلی اور بہار میں ووٹ چوری سے کامیابی کے بعد بی جے پی نے ممتا بنرجی کے قلعہ کو تہس نہس کردیا۔ ممتا اور اسٹالن کو بھرم تھا کہ ان کے قلعہ پر کوئی آنچ نہیں آئے گی لیکن آج نہ صرف دونوں کی حکومتوں کا زوال ہوگیا بلکہ دونوں رکن اسمبلی بھی نہیں بن سکے۔ بی جے پی نے گزشتہ 12 برسوں میں اکالی دل ، شیوسینا ، این سی پی ، نتیش کمار ، مایاوتی ، جنتادل سیکولر اور نوین پٹنائک کو سیاسی افق سے غائب کردیا ہے۔ 2029 میں بی جے پی کو اقتدار کو روکنے کیلئے اپوزیشن اتحاد کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
مغربی بنگال میں آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ نریندر مودی ۔ امیت شاہ کی سازش کامیاب ہوگئی اور عوامی مقبولیت کے باوجود ممتا بنرجی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ممتا بنرجی کا مقابلہ بی جے پی سے نہیں تھا بلکہ الیکشن کمیشن اور بالخصوص چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے بی جے پی کے الیکشن کے ایجنٹ کا رول ادا کیا۔ مبصرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ الیکشن کمیشن ، ایس آئی آر ، پیرا ملٹری فورسس اور پولیس آبزرورس کے ذریعہ ممتا بنرجی کو شکست دی گئی۔ ملک کی کسی بھی ریاست میں الیکشن کے موقع پر چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو تبدیل نہیں کیا گیا لیکن بنگال میں سارا نظم و نسق تبدیل کردیا گیا اور بی جے پی کے حمایتی عہدیدار متعین کئے گئے۔ ترنمول کانگریس اور بی جے پی میں ووٹوں کا فرق محض 32 لاکھ 11 ہزار ہے۔ ایس آئی آر کے ذریعہ 91 لاکھ نام فہرست سے خارج کردیئے گئے۔ ہر اسمبلی حلقہ میں اوسطاً 30 ہزار نام کاٹ دیئے گئے ۔ نتائج کے بعد 176 اسمبلی حلقوں میں جیت کا فرق 30 ہزار سے کم رہا جبکہ 117 حلقوں میں 30 ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی۔ ایک اور تجزیہ کے تحت جن اسمبلی حلقوں میں 5000 سے کم ووٹ کاٹے گئے ، وہاں بی جے پی کو 13 حلقوں میں کامیابی ملی جبکہ ٹی ایم سی صفر رہی۔ 5000 تا 15000 ناموں کی کٹوتی والے حلقہ جات میں ٹی ایم سی کو 12 اور بی جے پی کو 50 نشستیں حاصل ہوئیں۔ 15 تا 25 ہزار ناموں کی کٹوتی والے حلقہ جات میں بی جے پی کو 47 اور ٹی ایم سی کو 19 نشستوں پر کامیابی ملی ۔ 25 ہزار سے زائد ناموں کی کٹوتی والے حلقہ جات میں بی جے پی 95 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی جبکہ ترنمول کانگریس کو 51 نشستیں ملیں۔ 27 لاکھ ایسے رائے دہندے ہیں جن کے پاس تمام دستاویزات کی موجودگی کے باوجود رائے دہی کے حق سے محروم کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر اسمبلی حلقہ جات میں کاٹے گئے ناموں سے کم فرق سے نتائج تبدیل ہوگئے تو ایسی صورت میں از سر نو غور کیا جاسکتا ہے۔ بنگال میں یہ محض اتفاق نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے کہ ٹی ایم سی کے حامیوں کے نام حذف کئے گئے اور پولنگ مراکز کے علاوہ کاؤنٹنگ سنٹرس پر بی جے پی نے عہدیداروں کی مدد سے کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کے دعوے مذاق بن چکے ہیں۔ ایک طرف 27 لاکھ رائے دہندوں کو ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا اور تقریباً 7 لاکھ نام لمحہ آخر میں چوری چھپے فہرست میں شامل کئے گئے اور یہی نام شائد بی جے پی کے حق میں فیصلہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کا امتحان ہے کہ وہ اپنے تیقن پر کس حد تک عمل کرے گا۔ دوسری طرف نتائج کے ساتھ ہی مغربی بنگال تشدد کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ ٹی ایم سی دفاتر پر حملے اور آگ لگانے کے واقعات روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔ آتشزنی کے علاوہ قتل اور اقدام قتل کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق مغربی بنگال کے 124 سے زائد مقامات پر پرتشدد واقعات پیش آئے لیکن سیکوریٹی فورسس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کو مکانات سے نکال کر نشانہ بنایا گیا اور بعض علاقوں میں بلڈوزر بھی چلائے گئے۔ ملک میں جمہوریت ایک پہیلی بن چکی ہے ، ان حالات میں سپریم کورٹ ، سیکوریٹی فورسس، نظم ونسق اور الیکشن کمیشن بھلے ہی نہ جاگے لیکن وہ وقت دور نہیں جب عوام ضرور جاگیں گے۔ ندیم شاد نے نتائج پر کیا خوب مشورہ دیا ہے ؎
سبب تلاش کرو اپنے ہارجانے کا
کسی کی جیت پہ رونے سے کچھ نہیں ہوگا