وزارت خارجہ نے عدالت میں زیرالتواء کیسیس کیلئے سرٹیفکیٹس کی وضاحت کی
حیدرآباد۔ 13 فروری (سیاست نیوز) وزارتِ خارجہ نے حال ہی میں کمسن بچوں کے پاسپورٹ کی اجرائی کیلئے جمع کئے جانے والے دستاویزات میں معمولی تبدیلیاں کی ہیں۔ طلاق کے زیرالتواء کیسیس اور علیحدہ ہونے والے جوڑوں کے بچوں کے پاسپورٹ کیلئے درخواست دینے دستاویزات جمع کرنے پر وضاحت کی ہے۔ ریاست بھر میں پانچ پاسپورٹ سرویسیس سنٹرس اور 14 پوسٹ آفسیس میں روزانہ 4 ہزار پاسپورٹ جاری کئے جارہے ہیں۔ اس میں 5% تک کمسن بچوں کے درخواستیں شامل ہیں۔ طلاق، کمسن بچوں کی تحویل کے علاوہ دیگر اُمور زیرالتواء ہیں تو معمول کے مطابق درخواست دینی چاہئے۔ تتکال میں درخواستیں داخل نہ کی جائے۔ اگر جوڑے کے درمیان تنازعات عدالتوں میں زیرالتواء ہوں، اگر والدین میں سے کوئی ایک اپنے بچے کے پاسپورٹ کیلئے درخواست دینے پر راضی نہ ہو تو Annexure-C میں مذکورہ دستاویزات جمع کرانی ہوگی۔ جوڑے کی جانب سے رضامندی نہ ہونے پر عہدیدار اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے پاسپورٹ جاری کریں گے ۔ اگر والد یا والدہ بیرون ملک ہیں تو اجازت دینے کے موقف میں نہ ہوں تو پاسپورٹ کاپی کے ساتھ بیرون ملک جانے اور وہاں رہنے کے ثبوت دینا ہوگا۔ طویل مدتی یا رہائشی ویزا اور امیگریشن اسٹامپ کی کاپیاں لازمی طور پر دی جائیں۔ اگر عدالت طلاق کا حکم دیتی ہے اور بچے کو ماں یا باپ کی تحویل میں دیتی ہے لیکن بچوں تک رسائی کی اجازت نہیں دیتی ہے تو عدالت کے حکم نامے کے ایک کاپی فراہم کرنی ہوگی۔ اگر بچوں سے ملنے کا موقع دیا جائے تو دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک اجازت دینا پر آمادہ نہ ہو تو حکومت 15 دن کا وقت دیتے ہوئے اپنی صوابدید پر پاسپورٹ دے سکتی ہے۔ اگر طلاق یا تحویل کا معاملہ زیرالتواء ہو تو عدالت میں داخل کی گئی درخواست کی ایک نقل فراہم کرنا ضروری ہے۔ علاقائی پاسپورٹ آفیسر اسنیہا جھا نے مزید تفصیلات کیلئے ویب سائٹ passportindia.gov.in ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ 2