حیدرآباد۔ کورونا وائرس کی علامات پائے جانے کے بعد علاج کرنے میں کوئی تاخیر نہ کی جائے اور کورونا وائرس کی رپورٹ کا انتظار کئے بغیر علاج ومعالجہ کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ آئی سی ایم آر کے رہنمایانہ خطوط کی بنیاد پرمرکزی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کو ریاست تلنگانہ میں بھی قابل عمل بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج تیزی کے ساتھ کیا جاسکے۔ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں کورونا وائرس کے علاج میں ہونے والی تاخیر کے سبب کے اموات واقع ہونے کی توثیق کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی توثیق کے لئے کئے جانے والے آرٹی پی سی آر معائنہ کی رپورٹ کے لئے 48تا72 گھنٹے لگنے لگے ہیں جو کہ انتہائی تکلیف دہ اور صبر آزما ہے اسی لئے آئی سی ایم آر نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر کسی مریض میں علامات پائی جاتی ہیں تو امکانی مریض تصورکرتے ہوئے فوری علاج شروع کردیا جانا چاہئے۔
آئی سی ایم آر کے عہدیداروں اور ماہر سائنسدانوں نے ملک کی موجودہ صورتحال میں ہر طرح کے بخار اور علامات جب تک توثیق نہ ہو کہ یہ کورونا وائرس نہیں ہے تو اس وقت تک کورونا وائرس کی تصورکرتے ہوئے علاج کرنے کی ضرورت ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست آئی سی ایم آرکے ان رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کو دیکھتے ہوئے تمام ریاستوں کو روانہ کردہ تجاویز میں کہاگیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی علامات کے ساتھ رجوع ہونے والے مریضوں کی رپورٹ کا انتظار کرنے کے بجائے ان کا فوری علاج شروع کریں اور ضرورت محسوس ہونے پر انہیں آکسیجن اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ ابتداء میں ہی علاج کی شروعات کے ذریعہ مریض کی حالت کو بگڑنے سے بچایاجاسکتا ہے۔