لندن: برطانیہ میں اگلے ہفتے سے کورونا میں مبتلا افراد کو قانونی طور پر آئی سولیشن اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی، حکومت کی جانب سے ’کورونا کے ساتھ جینا‘ نامی منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ٹسٹنگ کی شرح کم ہونے کا بھی امکان ہے۔اے پی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ قانونی پابندیوں کا خاتمہ لوگوں کو ’اپنا تحفظ کریں، آزادیوں کو محدود کیے بغیر‘ کی طرف لے جائے گا۔ان کی جانب سے منصوبے کی مزید تفصیلات پارلیمان کے اجلاس میں بتائے جانے کا امکان ہے۔ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمیں احتیاط کو بالکل چھوڑ دینا چاہیے، مگر اب وقت ہے سب کو اعتماد بحال کرنے کا۔ جانسن کے مطابق ہم ایک ایسے مرحلے پہنچ گئے ہیں جہاں ہمیں لگتا ہے اب آپ معاملہ حکومت کے اختیار سے آگے بڑھا سکتے ہیں، پابندیوں کے ایسے اقدامات سے آگے جا سکتے ہیں، بہ نسبت بندشیں عائد کرنے سے ذاتی ذمہ داری کے حق میں قدم اٹھا سکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کے کچھ سائنسی مشیر اقدام کو دوسری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس سے کیسز میں تیزی آسکتی ہے جو وبا کے مقابلے میں ملک کے تحفظ کو کمزوری کی طرف لے جا سکتی ہے۔اپوزیشن پارٹی کے شعبہ صحت کے ترجمان ویس سٹریٹنگ نے بورس جانسن کے اقدام کو ’فتح سے قبل کامیابی کا اعلان‘ قرار دیا ہے۔کورونا کا معاملہ اتوار کو وقت ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا،جب ملکہ الزبتھ کو کورونا کی شکایت ہوئی، جس کے بعد بکھنگم پیلس کی جانب سے کہا گیا کہ ملکہ میں معمولی نوعیت کی علامات موجود ہیں۔ جانسن کی حکومت نے جنوری میں زیادہ تر بندشیں ہٹا دی تھیں۔انگلینڈ میں اسپتالوں کے علاوہ دیگر مقامات کیلئے ویکسین پاسپورٹ اور ماسک کی پابندی کو ختم کر دیا گیا تھا۔اسی طرح اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ، جو صحت کے حوالے سے اپنے الگ قوانین رکھتے ہیں، ان کی جانب سے آہستہ آہستہ معمولات زندگی بحال کر دیے ہیں۔ویکسین لگوانے کی زیادہ شرح اور کم اومی کرون کیسز کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ بندشیں کم کرنے سے کیسز میں اضافہ نہیں ہو گا اور اسپتالوں میں داخلے اور اموات کی شرح بھی نہیں بڑھے گی۔اگرچہ انگلینڈ روس کے بعد اب بھی یورپ میں سب سے زیادہ کورونا کی شرح رکھتا ہے، جہاں ایک لاکھ 60 ہزار سے اموات ہوچکی ہیں۔