کوٹھی ویمنس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ ، بجٹ کی اجرائی میں حکومت کی خاموشی

   

نئی جامعہ معاشی بدحالی کا شکار، کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا وعدہ بھی بے وفا ثابت
حیدرآباد۔7۔ ستمبر۔ (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست میں صرف اقلیتوں کے کان خوش نہیں کئے ہیں بلکہ دیگر طبقات بالخصوص طلبہ بالخصوص طالبات کے کانوں کو خوش کرنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ان کی اعلیٰ تعلیم کے انتظام کے لئے خواتین کی یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا لیکن اس کے لئے کوئی بجٹ جاری نہیں کیا گیا ۔ریاستی حکومت نے کوٹھی ویمنس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے سال 2018 میں احکام جاری کئے لیکن تلنگانہ میں قائم کی گئی پہلی خواتین کی اس جامعہ کے لئے معلنہ 37کروڑ روپئے میں گذشتہ 5سال کے دوران ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا جو کہ ریاستی حکومت کی خواتین کی اعلیٰ تعلیم اورمجموعی اعتبار سے تعلیم کے علاوہ اپنے وعدوں کے متعلق سنجیدگی کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تشکیل تلنگانہ کے بعد اپنی پہلی معیاد کے اختتام سے قبل کوٹھی ویمنس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے احکام جاری کئے تھے اور یہ کہا گیا تھا کہ ویمنس کالج کو یونیورسٹی کے طور پر ترقی دینے کے لئے 100 کروڑ کا خصوصی بجٹ فراہم کیا جائے گا لیکن ریاستی حکومت نے 2018 میں کئے گئے اس اعلان کے بعد ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی اور پھر بجٹ کی اجرائی کو فراموش کردیا گیا ۔ کوٹھی ویمنس کالج جو کہ اب تلنگانہ مہیلا وشوا ودیالیہ میں تبدیل ہوچکی ہے اس کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی بجٹ جاری نہ کئے جانے کے سبب یہ جامعہ معاشی بدحالی کا شکار ہوتی جاری ہے ۔ قلب شہر میں واقع 40 ایکڑ اراضی پر محیط اس وسیع و عریض کیمپس میں جہاں طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہیں اسے یونیورسٹی کا درجہ فراہم کرنے کے بعد بھی عدم تقررات اور بجٹ کی عدم فراہمی کے نتیجہ میں حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہونے لگے ہیں ۔ کوٹھی ویمنس کالج جو کہ اپنے قیام کے 100 سال مکمل کرنے جارہا ہے اور جاریہ ماہ اس کالج کے قیام کی 100 سالہ تقاریب کا آغاز متوقع ہے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب یونیورسٹی انتظامیہ شہر حیدرآباد کے اس وسیع و عریض کیمپس میں تقاریب کے اہتمام کے سلسلہ میں پس و پیش کررہا ہے ۔ریاستی حکومت کی جانب سے تلنگانہ عوام کے کانوں کو خوش کرنے کے لئے کئے جانے والے اعلانات اب منظر عام پر آنے لگے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت نے کوٹھی ویمنس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کے احکامات جاری کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اس جامعہ میں تقررات کو یقینی بنانے کے علاوہ اس کالج کی یونیورسٹی کے طور پر ترقی کے لئے 100 کروڑ کا خصوصی بجٹ فراہم کیا جائے گا لیکن انتظامیہ کی جانب سے بارہا متوجہ کروائے جانے کے باوجود اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی بلکہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے 5 سال گذار دیئے گئے ہیں۔ کوٹھی ویمنس کالج کے ذرائع کے مطابق اب جبکہ کالج کی صد سالہ تقاریب کے انعقاد کے سلسلہ میں تیاریاں کی جار ہی ہیں ایسے میں اس کالج کے پاس اپنے مالیہ کے سواء حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی کوئی امداد موجود نہیں ہے۔ حکومت تلنگانہ کی ریاست میں تعلیمی اداروں کی ترقی کے متعلق عدم دلچسپی کی بدترین مثال 2018 تک جامعہ عثمانیہ سے ملحقہ کوٹھی ویمنس کالج ہے جسے یونیورسٹی کا درجہ کاغذ پر دے دیا گیاہے لیکن اس کی ترقی اور معیار کو بہتر بنانے کے لئے محکمہ اعلیٰ تعلیم یا حکومت کی جانب سے کوئی بجٹ فراہم نہیں کیاگیا جس کے نتیجہ میں یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے کے باوجود یہ کیمپس ایک کالج کے طرز پر خدمات انجام دے رہا ہے اور یہاں بیشتر کنٹراکٹ ملازمین ہیں جن کی خدمات کو مستقل بنانے یا نئے تقررات کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی ہے۔