پولیس، بلدیہ اور فائر ڈپارٹمنٹ سے تاحال این او سی حاصل نہیں کیا گیا
حیدرآباد۔/18 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کُل ہند صنعتی نمائش کے آغاز سے قبل ہی پھر ایک مرتبہ نمائش کو تنازعہ میں گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ خواجہ اعجاز الدین نے حکومت کے مختلف اداروں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے نمائش سوسائٹی کو 82 کُل ہند صنعتی نمائش کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ ہر سال یکم جنوری کو نمائش کا آغاز ہوتا ہے اور نمائش سوسائٹی نے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ نمائش سوسائٹی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن، ڈائرکٹر جنرل فائر سرویسیس اور حیدرآباد سٹی پولیس سے تاحال اجازت حاصل نہیں کی ہے۔ نمائش کے آغاز کیلئے حکومت کے مختلف اداروں سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ کی اجرائی ضروری ہے جن میں فائر ڈپارٹمنٹ کی اجازت اہمیت کی حامل ہے۔ تلنگانہ فائر سرویسیس 1999 کے تحت نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسٹالس کے لے آؤٹ کی منظوری گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے حاصل کی جانی چاہیئے۔ ہائی کورٹ کے وکیل نے کہا چونکہ سرکاری اداروں سے این او سی حاصل نہیں کیا گیا لہذا صنعتی نمائش 2023 کے آغاز کی اجازت نہ دی جائے۔ جنوری 2022 میں سپریم کورٹ میں خصوصی درخواست داخل کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس بی وائی چندر چوڑ، جسٹس اے پی گوپنا اور جسٹس جے ڈی پارڈی والا نے اگسٹ 2022 میں خصوصی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ تلنگانہ حکومت کے جی او آر ٹی 693 مورخہ 9 ستمبر 2019 کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع ہوں۔ نومبر میں تازہ مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی تھی اور چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ نے مختلف سرکاری محکمہ جات کو نوٹس جاری کی۔ خواجہ اعجاز الدین نے کہا کہ نمائش سوسائٹی‘ پولیس، جی ایچ ایم سی اور فائر ڈپارٹمنٹ سے اجازت کے حصول کیلئے قانونی طور پر پابند ہے۔ حکام کو مداخلت کرتے ہوئے نمائش سوسائٹی کو ہدایت دینی چاہیئے کہ وہ تاجرین کو الاٹ کردہ اسٹالس سے دستبرداری اختیار کریں اور دوبارہ عوام اور تاجرین سے درخواستیں طلب کرے کیونکہ عوام سے رقومات کی وصولی غیر قانونی اور غیر ضروری ہے۔ر