کوزی کوڈ:کیرالاکی کوزی کوڈ سٹی پولیس نے شہر کے ایک ممتاز عالم دین کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ مولوی کے خلاف الزامات ہیں کہ اس نے ایک ٹیلی ویژن مباحثہ کے دوران خواتین مخالف تبصرے کیے تھے۔ کہا تھا کہ حجاب نہ پہننے والی مسلم خواتین بد کردار ہوتی ہیں۔میڈیا کے مطابق ترقی پسند مسلم خواتین کے فورم،نسا کی صدروی پی سوہرا نے گزشتہ سال 7 اکتوبر کو شکایت درج کرائی تھی۔ اب جمعرات 4 جنوری کو سنی مذہبی رہنما عمر فیضی کے خلاف آئی پی سی کی دفعہA 295 (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا) اور 298 (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے بیانات دینا) کے تحت ایف ائی آر درج کی گئی ہے۔گزشتہ سال اکتوبر میں یکساں سیول کوڈ پر ایک سیمینار کے دوران، سی پی آئی (ایم) لیڈر کے انیل کمار نے کہا تھا کہ ملاپورم میں مسلم لڑکیوں نے کمیونسٹ پارٹی کے اثر و رسوخ کی وجہ سے حجاب چھوڑ دیا ہے اور یہ ایک ترقی پسند قدم ہے۔ اس کے بعد ان کی پارٹی کے ایم پی اے ایم عارف اور پارٹی کے دیگر مسلم لیڈروں نے بھی ان کے بیان پر تنقید کی۔پارٹی کے ریاستی سکریٹری اور پولیٹ بیورو کے رکن ایم وی گووندن کو یہاں تک کہنا پڑا کہ پارٹی انیل کمار کی رائے سے متفق نہیں ہے۔ کسی کو بھی کچھ بھی پہننے کا حق ہے اور انیل کمار کو یہ بیان دینے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ اس بیان کے پس منظر میں عمر فیضی کو ایک ٹی وی مباحثے میں بلایا گیا۔ پھر ا نہوں نے یہ بیان دیا کہ وہ بد کردار ہیں۔اس کے بعد ہی نسا نے شکایت درج کرائی۔ اب جب کہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے، نسا نے پولیس کی کاروائی کا خیر مقدم کیا ہے۔