نئی دہلی : سکھ قائد کے قتل کے بعد سے کینیڈا اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ہندوستانی میڈیا کے مطابق ہندوستان نے کینیڈا میں موجود ہندوستانی شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کردی ہے جس میں کینیڈا میں بڑھتی ہندوستان مخالف سرگرمیوں پر وہاں موجود ہندوستانیوں سے احتیاط کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ہندوستانی میڈیا کے مطابق کینیڈا کا سفر کرنے والے ہندوستانیوں سے بھی وہاں محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں ہندوستان مخالف ایجنڈہ کی مخالفت پر سفارتکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، ہندوستانی شہری کینیڈا کے مخصوص علاقوں کے سفر سے گریز کریں۔ اس سے قبل سفارتی تناؤ کے بعد کینیڈین حکومت نے بھی اپنے شہریوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کردی تھی۔ کینیڈا نے اپنے شہریوں کو ہندوستان کے مختلف علاقوں آسام، منی پور، مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں ہند۔ پاک سرحد کے قریبی علاقوں میں سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی۔ علاوہ ازیں کینیڈا میں ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سربراہ کو ملک بدر کردیا گیا ہے جبکہ ہندوستان کینیڈین سفارتکار کو طلب کر کے اس کی سخت سرزنش اور اسے ملک چھوڑنے کا حکم بھی جاری کرچکا ہے۔ واضح رہے کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر کو پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان خالصتان قائد ہردیپ نجر کے قتل میں ملوث ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ہندوستانی ایجنٹ سکھ قائد کے قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ سکھ قائد ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا میں گردوارہ کے سامنے 18جون کو قتل کردیا گیا تھا۔