ایم ایل ایز خریدی معاملہ کے شواہد ججس کو بھیجنے پر اعتراض، دستوری عہدہ پر فائز افراد احتیاط کریں
حیدرآباد۔27۔ فروری (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے ارکان اسمبلی خریدی معاملہ کی سماعت کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ چیف منسٹر نے جو رویہ اختیار کیا ہے درست نہیں ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے مقدمہ کی آڈیو اور ویڈیو پین ڈرائیو راست طورپر ججس کو روانہ کرنے پر عدالت میں سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ججس نے سوال کیا کہ چیف منسٹر آڈیو اور ویڈیو راست طورپر ججس کو کس طرح بھیج سکتے ہیں۔ جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس منوج مشرا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے آج ارکان اسمبلی خریدی معاملہ کی جانچ کے دوران سخت ریمارکس کئے ہیں۔ تلنگانہ حکومت کے وکیل دشنت داوے نے عدالت سے کہا کہ اس معاملہ میں ججس کو جو تکلیف ہوئی ہے، اس پر حکومت کو افسوس ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کے سی آر نے ارکان اسمبلی خریدی معاملہ کے آڈیو اور ویڈیو کلپس کو سپریم کورٹ کے ججس کے علاوہ ملک کی اہم شخصیتوں کو روانہ کیا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ارکان اسمبلی خریدی معاملہ کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کرنے کی ہدایت دی۔ تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ حکومت کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کردی جائے تو ریاستی پولیس کی جانب سے ابھی تک کی گئی تحقیقات بے فیض ہوجائیں گی۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے سینئر وکلاء دشنت داوے اور سدھارت لوترا نے دلائل پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں بی جے پی قائدین ملوث ہیں، لہذا جانچ کو سی بی آئی کے حوالے کرنا درست نہیں ہے ۔ وکلاء نے مباحث کیلئے عدالت سے مزید وقت مانگا۔ مخالف وکلاء نے عدالت سے شکایت کی کہ تلنگانہ حکومت نے مقدمہ سے متعلق اہم ثبوتوں کا افشاء کیا ہے جس پر ججس نے کہا کہ ارکان اسمبلی خریدی معاملہ کے ثبوت میڈیا کے بجائے ججس کو روانہ کئے گئے۔ جسٹس گوائی نے کہا کہ مقدمہ سے متعلق تفصیلات کو یپن ڈرائیو کے ذریعہ ججس کو روانہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے راست طور پر شواہد کی روانگی ٹھیک نہیں۔ اگر کوئی عام آدمی یہ حرکت کرتا تو بات قابل فہم تھی لیکن دستوری عہدہ پر فائز افراد کی جانب سے یہ اقدام درست نہیں ہے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ اگر سی بی آئی مرکزی حکومت کے تحت کام کرتی ہے تو پھر خصوصی تحقیقاتی ٹیم ریاستی حکومت کے کنٹرول میں ہوتی ہے۔ تلنگانہ حکومت کے وکیل دشنت داوے کی معذرت خواہی کے بعد ججس نے اطمینان کا اظہار کیا۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار ہے، لہذا سی بی آئی کو تحقیقات حوالے کرنا درست نہیں ہے۔ ملک میں اپوزیشن کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ ابھی تک 8 ریاستی حکومتوں کو معزول کیا گیا ۔ دہلی کے ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا کے خلاف بھی سی بی آئی نے کارروائی کی ہے۔ر