کے ٹی آر کی مسلمانوں سے جھوٹی ہمدردی، دس سال میں ایک مسلم وائس چانسلر نہیں اور پبلک سرویس کمیشن میں مسلم نمائندہ شامل نہیں کیا گیا
حیدرآباد۔/21 اگسٹ، ( سیاست نیوز) حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر نے بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کو مشورہ دیا کہ مسلمانوں سے جھوٹی ہمدردی کے بجائے اس بات کا جواب دیں کہ ان کے والد کے سی آر نے ایک مسلمان کو ہرانے کیلئے کاماریڈی اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کیوں کیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر کا کاماریڈی سے مقابلہ کرنا مسلم دشمنی کا واضح ثبوت ہے اور قدرت نے چیف منسٹر کی حیثیت سے انہیں شکست سے دوچار کرتے ہوئے اقتدار سے محروم کردیا۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کے ٹی آر انہیں کابینہ میں شامل نہ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ دس سال تک اقتدار میں مسلمانوں کو نظرانداز کرنے والے آج اپوزیشن میں بیٹھ کر مسلمانوں سے جھوٹی ہمدردی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1989 سے وہ حلقہ اسمبلی کاماریڈی سے مسلسل مقابلہ کررہے ہیں۔ کاماریڈی اسمبلی حلقہ سرسلہ سے متصل ہے اور آپ کے والد نے اسمبلی کی 118 نشستوں کو چھوڑ کر کاماریڈی سے مقابلہ کا فیصلہ کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے ٹی آر کو اپنے والد کے کاماریڈی سے مقابلہ کا پہلے جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے مقابلہ کے سبب پارٹی ہائی کمان نے انہیں نظام آباد اربن منتقل کیا جہاں ناکامی ہوئی۔ اس طرح ایک مسلمان کی شکست کیلئے کے سی آر ذمہ دار ہیں اور وہ خود بھی چیف منسٹر کے طور پر ہار گئے اور اقتدار سے محروم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم نہیں کئے گئے۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں مسلم نمائندہ کو شامل نہیں کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے جن مسلم امیدواروں کو میدان میں اُتارا تھا ان تمام کو شکست ہوئی باوجود اس کے مجھے اقلیتوں اور کمزور طبقات کا مشیر مقرر کرتے ہوئے کابینی رتبہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دس سالہ دور میں اردو کمپیوٹر سنٹرس، لائبریریز، اسکولس اور کالجس بند ہوگئے۔ کانگریس حکومت ہائی کورٹ نے پہلی مرتبہ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے عہدہ پر ایک مسلمان کا تقرر کیا۔ پبلک سرویس کمیشن میں عامر اللہ خاں کو نمائندگی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں دس ریاستی یونیورسٹیز میں ایک بھی مسلم وائس چانسلر مقرر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے مقابلہ کے وقت کاماریڈی میں محکمہ اقلیتی بہبود سے 26 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ انہوں نے کے ٹی آر کو مشورہ دیا کہ وہ اقلیتوں اور حکومت کے بارے میں اظہار خیال سے قبل احتیاط کریں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ایک سوال کے جواب میں محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر نے دوسری پارٹیوں کو توڑنے کا کام کیا تھا اور آج خود ان کے ارکان اسمبلی کانگریس میں شامل ہورہے ہیں کیونکہ وہ قیادت سے ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں کانگریس کی تائید سے محمود علی قانون ساز کونسل کیلئے منتخب ہوئے۔ بی آر ایس کے پاس محض 11 ارکان تھے اور کانگریس نے حلیف جماعت کے امیدوار محمود علی کی تائید کرتے ہوئے پہلی مرتبہ کونسل میں منتخب کیا تھا۔1