بھوپال: بابائے قوم مہاتما گاندھی کی جان بچانے والے بطخ میاں انصاری کو کب انصاف ملے گا؟ اور ان جیسے دیگرمجاہدین سے کئے گئے وعدوں کو پورا کب پورا کیا جائے گا تاکہ ان کے خاندان در بدر کی ٹھوکرکھانے پرمجبور نہ ہوں ۔ ان خیالات کا اظہار چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کیا۔انھوں نے کہا کہ جس طرح بابائے قوم مہاتما گاندھی کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں،اسی طرح آپ کے قاتل کا نام بھی لوگوں کو یاد ہے ۔ ہر شخص ناتھورام گوڈسے کا نام جانتا ہے لیکن یہ المیہ ہے کہ محسن گاندھی و محافظ گاندھی کو آج کوئی نہیں جانتا۔حالانکہ بچانے والا مارنے والے سے ہمیشہ بڑا ہوتا ہے اور جو اپنی جان و مال کی قربانی دے کر کسی کی جان بچاتا ہے تو وہ ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتا ہے اور ظاہر ہے جو بڑا ہوگا وہ ہر اس طرح کے موقعوں پر یاد کیا جائے گا، لیکن ہمارے ملک میں معاملہ کچھ مختلف ہی نہیں ہے بلکہ برعکس ہے ۔ایسی شخصیت جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر، اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر، بلاکسی خوف و تردد کے گاندھی جی کی جان بچائی آج کوئی ان کا نام تک نہیں جانتا۔آج وہ شخصیت گم نام ہوگئی ہے ۔وہ عظیم شخصیت بخت میاں انصاری (عرف بطخ میاں انصاری) کی ہے جنہوں نے انگریز افسر کی بات نہ مان کر ملک و ملت کی خاطر اپنی ایمانداری ثابت کی۔انہیں اس بات کا بخوبی علم بھی تھا کہ اس ایمانداری اور جرأت مندانہ کام کی پاداش میں انہیں چین سے جینے نہیں دیا جائے گا، طرح طرح کے مصائب اُن پر آئیں گے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے ضمیر کو نہیں بیچا اور سچائی کا ساتھ دیااور ملک کے لئے وہ کام کر گئے جو کر پانا انتہائی مشکل تھا اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا کام تھا۔