گرودت کی فلمیں سماج کی حقیقت کی عکاسی کرتی تھیں

   

ممبئی ، 10 اکتوبر (ایجنسیز) ہندوستانی فلمی دنیا میں کچھ فنکار ایسے ہوئے ہیں جو اپنے فن، اداکاری اور منفرد اندازسے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتے ہیں۔ گرو دت ایسے ہی ایک عظیم فنکار تھے، جنہوں نے اپنی اداکاری، ہدایت کاری اور فلم سازی کے ذریعے ہندی سنیما کو نئی پہچان دی۔ ان کی فلموں میں محبت، تنہائی، سماجی ناانصافی، غربت اور انسانی جذبات کی ایسی عکاسی ملتی ہے جو آج بھی ناظرین کو متاثر کرتی ہے۔ گرو دت کو ہندی سنیما کے ان فنکاروں میں شمار کیا جاتا ہے جن کا کام اپنے زمانے سے آگے تھا۔ ان کی پیدائش 9 جولائی 1925ء کو بنگلور میں ہوئی تھی۔ تاہم تعلیم کلکتہ میں حاصل کی۔گرودت 20 برس کی عمر میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر کے طور پر فلمی دنیا میں داخل ہو چکے تھے۔جہاں انہیںگیان مکرجی اور امیہ چکروتی جیسے ہدایتکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ان ہی دنوں ان کی ملاقات گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم مکمل کرنے والے خوبرو نوجوان دیو آنند سے ہوئی جو فلموں میں اداکار کے طور پر قسمت آزما رہے تھے۔ دونوں میں خاصی دوستی ہوگئی اور پھر دونوں میں ایک دوستانہ معاہدہ ہوا۔طے یہ پایا کہ اگر گرو دت پہلے ہدایتکار بن جاتے ہیں تو وہ اپنی پہلی فلم میں دیو آنند کو کام کرنے کا موقع دیں گے اور اگر دیو آنند نے پہلے فلمسازی کی تو وہ گرودت کا انتخاب ڈائرکٹر کے طور پر کریں گے۔ اس واقعے کے ڈھائی تین برس بعد دیو آنند کے بڑے بھائی نے اپنی فلم کمپنی شروع کرکے پہلی فلم ’بازی‘کا اعلان کیا۔ دیو آنند اس فلم میں ہیرو تھے۔ انھوں نے وعدے کے مطابق ہدایتکاری کے فرائض گرو دت کے حوالے کردیئے اور یوں دونوں وعدے ایک ساتھ پورے ہوگئے۔ یہ ہونہار ہدایت کار 10 اکتوبر 1964ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ فلموں میں اپنے کریئر میں گرو دت نے بطور اداکار جملہ 17 فلموں میں کام کیا اور اُن میں سے 8 فلمیں انہوں نے خود ڈائریکٹ کیں اور یہی فلمیں اُن کی سب سے بہترین فلمیں بھی ثابت ہوئیں۔ ان کی مشہور فلموں میں ’صاحب، بی بی اور غلام‘ اور’چودہویں کا چاند‘شامل ہیںجو انہوں نے خود ڈائریکٹ نہیں کیں۔ گْرو دت کو اُردو سے محبت تھی۔ اُن کی فلموں میں ایسی اردو شاعری کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جس کا جنم بمبئی کی فلم انڈسٹری میں ہوا اور جس کا اثر آج بھی فلم انڈسٹری پر صاف نظر آتا ہے۔ ساحر لدھیانوی کی اس اردوسے محبت کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ یہ وہ اردو تھی جو خود گرو دت کے جذبات اور حالات سے واقف تھی۔ انہوں نے اپنے زمانے سے بہت آگے کی کہانی پر مبنی فلم مسٹر اینڈ مسز 55 پیش کی جسے آج اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی دیکھتے ہیں تو وہ بالکل نئی فلم معلوم پڑتی ہے۔ ’آر پار‘اور’مسٹر اینڈ مسز ففٹی فائیو‘کا شمار ہندوستان کی یادگار مزاحیہ فلموں میں کیا جاتا ہے جبکہ ’پیاسا‘اور’کاغذ کے پھول‘نہ صرف ہندوستانی بلکہ عالمی سنیما کی دو نہایت ہی اہم فِلمیں مانی جاتی ہیں۔ اِن دو فلموں میں سے ’پیاسا‘ بہترین فلم تھی جو کافی مقبول ہوئی۔ 1956ء میں گرودت کی فلم سی آئی ڈی منظر عام پر آئی، بازی اور آر پار کی طرح یہ بھی جرم و سزا کی ایک کہانی تھی لیکن اس میں گرو دت نے وحیدہ رحمان کو متعارف کرایا۔وحیدہ رحمان کے ساتھ انہوں نے کئی یادگار فلمیں بنائیں جو آج بھی مشہور ہیں۔