ایس ٹی تحفظات پر عمل آوری کیلئے حکومت سے وضاحت طلبی
حیدرآباد ۔14 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے گروپ I امتحانات روکنے سے متعلق درخواست کو قبول نہیں کیا۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے 16 اکتوبر کو گروپ I پریلیمس امتحانات منعقد ہوں گے اور عدالت نے ہدایت دی امتحانات کے نتائج ہائی کورٹ کے فیصلہ کے تابع رہیں گے۔ ہائی کورٹ نے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ ایس ٹی تحفظات میں اضافہ سے متعلق حکومت کے تازہ احکامات پر عمل آوری کی درخواستوں کا نتائج کے اعلان سے قبل جائزہ لیں۔ ہائیکورٹ نے ایس ٹی تحفظات پر عمل آوری کے بارے میں تفصیلات کے ساتھ حلفنامہ داخل کرنے حکومت اور پبلک سرویس کمیشن کو نوٹس جاری کی ہے۔ حکومت نے درج فہرست قبائل کے تحفظات کو 6 سے 10 فیصد کرتے ہوئے جی 33 جاری کیا۔ گروپ I امتحانات میں ایس ٹی تحفظات پر عمل آوری نہ ہونے کی شکایت کے ساتھ میدک ضلع سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ جسٹس این وی شراون کمار نے سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے رچنا ریڈی نے دلائل پیش کئے اور کہا کہ گروپ I کے تحت 503 جائیدادوں پر تقررات کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ ایس ٹی طبقہ کیلئے 6 فیصد تحفظات پر عمل آوری سے صرف 31 امیدواروں کو فائدہ ہوگا جبکہ 10 فیصد پر عمل آوری کی صورت میں 50 ایس ٹی امیدوار منتخب ہوسکتے ہیں۔ سرکاری وکیل سنجیو کمار نے عدالت کو بتایا کہ گروپ I نوٹیفکیشن اپریل میں جاری کیا گیا تھا جبکہ تحفظات میں اضافہ کا جی او ستمبر میں جاری ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 5 لاکھ امیدواروں نے درخواستیں داخل کی ہیں اور 2.5 لاکھ امیدوار ہال ٹکٹ ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اس مرحلہ پر احکامات کی اجرائی سے 5 لاکھ امیدواروں پر اثر پڑے گا ۔ لہذا عدالت امتحانات کے انعقاد میں مداخلت نہیں کرے گی۔ تاہم حکومت سے حلفنامہ داخل کرنے کی خواہش کی گئی۔ ر