کانگریس ، بی جے پی اور بی آر ایس کو کامیابی کا یقین، جیون ریڈی کی ناراضگی سے کانگریس کیلئے مشکلات
حیدرآباد ۔یکم۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں عادل آباد ، نظام آباد ، کریم نگر اور میدک اضلاع پر مشتمل گریجویٹ ایم ایل سی نشست کے انتخابات کانگریس ، بی آر ایس اور بی جے پی کے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔ حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے پیش نظر گریجویٹ حلقہ کا الیکشن عوام کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور تینوں پارٹیاں کامیابی کیلئے ابھی سے منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ چار اضلاع کی 20 اسمبلی نشستوں پر کانگریس پارٹی کا کنٹرول ہے جبکہ بی جے پی نے 4 اضلاع میں 4 لوک سبھا حلقوں اور 7 اسمبلی حلقوں پر کامیابی کے ذریعہ اپنا اثر مضبوط کیا ہے ۔ اہم اپوزیشن بی آر ایس کے 14 ارکان اسمبلی ہیں جو 4 اضلاع کے کونسل انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ موجودہ رکن کونسل جیون ریڈی کو کانگریس پارٹی کی جانب سے دوبارہ امیدوار بنائے جانے کے بارے میں صورتحال واضح نہیں ہے ۔ جگتیال کے بی آر ایس رکن اسمبلی سنجے کمار کی کانگریس میں شمولیت سے جیون ریڈی ناراض ہیں اور انہوں نے حالیہ دنوں میں پارٹی اور قیادت کے خلاف بیانات دیئے ہیں۔ جیون ریڈی نے دوبارہ مقابلہ کرنے کے بجائے ایم ایل اے کوٹہ سے ایم ایل سی نشست کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کو گریجویٹ نشست پر جیون ریڈی کے متبادل کی تلاش ہے۔ دوسری طرف بی جے پی 4 ارکان پارلیمنٹ اور 7 ارکان اسمبلی کی طاقت کے ذریعہ گریجویٹ نشست پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار اور ارکان پارلیمنٹ ڈی اروند ، جی نگیش اور رگھونندن راؤ گریجویٹ ووٹرس میں مہم کا آغاز کردیا ہے۔ بی جے پی کو محبوب نگر ، رنگا ریڈی اور حیدرآباد اضلاع پر مشتمل ٹیچرس زمرہ کی ایم ایل سی نشست پر کامیابی حاصل ہوئی ہے جس کے بعد سے پارٹی قائدین کے حوصلے بلند ہیں۔ بی آر ایس کو یقین ہے کہ چاروں اضلاع میں اس کا مضبوط ووٹ بینک کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ پارٹی سربراہ کے سی آر کے علاوہ کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ نے گریجویٹ ایم ایل سی نشست امیدوار کے بارے میں قائدین سے مشاورت کا آغاز کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی نے گریجویٹ زمرہ کی ایک اور ٹیچرس زمرہ کی دو نشستوں کیلئے امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دے دی ہے اور ہائی کمان کی منظوری کیلئے روانہ کیا گیا ہے ۔ 1