گریجویٹ کونسل کی نشست کیلئے پروفیسر کودنڈا رام کا امکانی مقابلہ

   

کانگریس ، تلگو دیشم اور بائیں بازو کی تائید حاصل کرنے کی کوشش
حیدرآباد: تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام ، نلگنڈہ ، ورنگل اور کھمم اضلاع پر مشتمل گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشست پر مقابلہ کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ کانگریس ، تلگودیشم ، سی پی آئی ، سی پی ایم اور تلنگانہ انٹی پارٹی سے تائید حاصل کرتے ہوئے مشترکہ امیدوار کی حیثیت سے کودنڈا رام کو میدان میں اتارنے کی تیاری ہے۔ ایم ایل سی نشست پر ٹی آر ایس کو شکست دینے کیلئے پروفیسر کودنڈا رام موزوں امیدوار ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ تلنگانہ تحریک کے دوران سرکاری ملازمین اور طلبہ میں وہ کافی مقبول رہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی تک کودنڈا رام کی تائید کا وعدہ نہیں کیا۔ کانگریس پارٹی گریجویٹ زمرہ کی دونوں نشستوں پر مقابلہ کا اعلان کرچکی ہے۔ اگر کودنڈا رام ، تلگو دیشم اور بائیں بازو کی تائید سے مقابلہ کرتے ہیں تو ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ ٹی آر ایس کو ہوگا۔ ٹی آر ایس نے کونسل کے لئے ریاستی وزراء جگدیش ریڈی ، دیاکر راؤ اور اجئے کمار کو اہم ذمہ داریاں دی ہیں۔ صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ دونوں نشستوں پر پارٹی امیدواروں کی کامیابی کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ ارکان مقننہ کو مہم کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اسی دوران تلنگانہ جنا سمیتی کے جنرل سکریٹری جی وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ کودنڈا رام کی تائید کے لئے تمام سیاسی جماعتوںکو مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس نے دونوں نشستوں کیلئے اپنے امیدواروں کے ناموں کو تقریباً قطعیت دے دی ہے۔ حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور محبوب نگر پر مشتمل نشست کیلئے میئر حیدرآباد بی رام موہن اور ورنگل ، کھمم اور نلگنڈہ اضلاع پر مشتمل ایم ایل سی نشست کے لئے رکن کونسل ای راجیشور ریڈی کے نام کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ پی راجیشور ریڈی کا تعلق نلگنڈہ سے ہے اور وہ حضور نگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس انتخابی مہم کے انچارج تھے ۔ وہ فارمرس کوآرڈینیشن کمیٹی کے ریاستی صدر اور چیف منسٹر کے سی آر کے بااعتماد رفیق ہیں۔