گریٹر انتخابات میں چہرہ شناختی ایپ کیلئے الیکشن کمیشن کی تیاریاں

   

حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں چہرہ شناختی ایپ کے استعمال کی صورت میں سیاسی جماعتوں کیلئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے تجرباتی بنیاد پر بلدی انتخابات میں اس ٹکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ چہرہ شناختی ایپ کے استعمال کی صورت میں بوگس رائے دہی پر قابو پانے میں مدد ملے گی تاہم بعض گوشوں کی جانب سے اسے نجی زندگی میں مداخلت اور شخصی سرگرمیوں پر نگرانی سے مربوط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے تاکہ کمیشن کو فیصلہ سے روکا جاسکے۔ عام طور پر انتخابات میں تلبیس شخصی کے واقعات عروج پر ہوتے ہیں ایسے میں پولنگ آفیسرس کی جانب سے چہرہ شناختی ایپ کے استعمال کی صورت میں 50 فیصد تک تلبیس شخصی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپ میں موجود تفصیلات کے تحفظ کے بغیر اگر کمیشن اس کا استعمال کرے تو قانونی دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اگر بلدی انتخابات میں چہرہ شناختی ایپ کا استعمال کیا جائے تو ملک میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا تجربہ ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے چہرہ شناختی ایپ کے علاوہ بیالٹ پیپر یا ووٹنگ مشین کے استعمال کے سلسلہ میں سیاسی جماعتوں کی رائے حاصل کی ہے۔ برسراقتدار ٹی آر ایس اور اس کی حلیف مجلس چہرہ شناختی ایپ کے استعمال کے حق میں نہیں ہیں جبکہ کانگریس اور بی جے پی نے اس کی تائید کی ہے۔ اسی دوران جنوری میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کی صورت میں رائے دہی کے متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں مقیم آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں خاندان سنکرانتی کی چھٹیوں میں اپنے آبائی مقامات روانہ ہوجاتے ہیں۔ اگر ابتدائی دو ہفتوں میں رائے دہی کی تاریخ مقرر کی جائے تو مجموعی فیصد کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ حیدرآباد کے 150 بلدی ڈیویژنس میں تقریباً 50 ایسے ڈیویژنس ہیں جہاں سیما۔ آندھرا سے تعلق رکھنے والے رائے دہندے فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کی میعاد 10 فبروری کو ختم ہورہی ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد 2 فبروری 2016 کو پہلی مرتبہ بلدی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے جی ایچ ایم سی انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور سنکرانتی سے قبل یا اس کے بعد کی تاریخوں کو طئے کیا جاسکتا ہے۔ برسر اقتدار ٹی آر ایس کے قائدین سنکرانتی کی تعطیلات کے بعد رائے دہی کی تاریخ مقرر کرنے کے حق میں ہیں۔