مقامی افراد نے مرنے والوں کو خراج پیش کیا ۔ دیرینہ تعلقات اور روابط کا تذکرہ
حیدرآباد ۔ 20 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : چارمینار اور گلزار حوض اور اطراف کا علاقہ عوام سے بھرا رہتا ہے اور تقریباً رات دیر گئے تک ہلچل دکھائی دیتی ہے ۔ اتوار کی صبح آتشزدگی کی وجہ سے 17 افراد کی موت نے پورے علاقہ ہی نہیں بلکہ تقریبا ریاست بھر میں غم کا ماحول پیدا کردیا تھا ۔ پیر کو چارمینار اور گلزار حوض کے اطراف کے دکانداروں نے دکانات کو بند رکھا اور ایک روزہ سوگ منایا ۔ مودی خاندان کے ایک رشتہ دار مہیش کمار گوئل نے بتایا کہ ہر موسم گرما میں ان کے رشتہ دار دیگر شہروں سے حیدرآباد آکر چھٹیاں مناتے تھے ۔ تہوار خاص کر دیوالی میں سب لوگ جمع ہو کر تہوار مناتے تھے ۔ سانحہ کی خبر سننے کے بعد ہمیں یقین ہی نہیں ہو رہا کہ ہم نے اپنے خاندان کے لوگوں کو کھو دیا ہے ۔ ایک پولیس کانسٹبل ہری بابو جو اتوار کی صبح ڈیوٹی پر تعینات تھے نے بتایا کہ اتوار کی صبح چھ بجے عمارت سے دھواں دکھائی دیا تو وہ فوراً فائر محکمہ ، کنٹرول روم و چارمینار پولیس کو اطلاع دی ۔ فائیر انجن تقریبا 40 منٹ بعد پہنچے ۔ تب تک انہوں نے مقامی لوگوں کی مدد سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن دروازے اور تالے کافی مضبوط تھے جس کی وجہ سے دیوار توڑ کر اندر داخل ہونا پڑا ۔ ہم نعشوں کو کندھوں پر اٹھا کر باہر لائے اور جب ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد میں گھر پہنچا تو نیند ہی نہیں آئی ۔ ہری بابو نے کہا کہ یہ دن میری زندگی کا افسوسناک دن تھا جو میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا ۔ چائے اسٹال والے گیانیشور تلوار عرف لمبو بھائی نے بتایا کہ مودی خاندان ملنسار تھا وہ روزانہ ان کی دکان پر چائے پہنچاتے تھے ۔ انہوں نے پرہلاد مودی کا ذکر کرکے کہا کہ وہ خوش دل انسان تھے جو روزانہ گھر سے دکان جاتے وقت راستہ میں جو بھی پہچان والا ملتا اس سے بات کرتے اور ان کی صبح دکان جانے سے پہلے لمبو بھائی کی چائے پیتے ۔ ایک پڑوسی نے بتایا کہ متحدہ آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر آنجہانی این ٹی آر مودی پرل اسٹور کا دورہ کرچکے ہیں ۔ ایک اور مقامی شخص نے کہا کہ چارمینار اور اطراف بھیڑ کافی ہوتی ہے اور آتشزدگی سے دو دن قبل گلزار حوض کے قریب ایک ٹرانسفارمر پھٹ گیا تھا اور یہاں کوئی حفاظتی انتظامات نہیں ہیں ۔ آگ لگنے پر اس سے بچنے کا کوئی نظام نہیں ہے ۔ یہاں کے لوگوں کے لیے ابھی بھی خطرہ برقرار ہے ۔۔ ش