تعلیم اور زراعت کے شعبوں میں استعمال، نظم و نسق کوبہتر بنانے کی مساعی: ریونت ریڈی
حیدرآباد ۔13۔فروری (سیاست نیوز) گوگل نے تلنگانہ حکومت کے ساتھ یادداشت مفاہمت کی ہے جس کے تحت آرٹیفیشل انٹلیجنس ایکسلیٹر حیدرآباد میں قائم کیا جائے گا جس کے تحت مختلف شعبہ جات میں بہتر خدمات کیلئے حکومت کو مدد ملے گی۔ محکمہ جات زراعت ، تعلیم کے علاوہ نظم و نسق میں آرٹیفیشل انٹلیجنس کے استعمال کے ذریعہ کارکردگی بہتر بنانے کیلئے آج ٹی ہب میں چیف منسٹر ریونت ریڈی اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی سریدھر بابو کی موجودگی میں یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے گئے ۔ گوگل نے انٹیفیشل انٹلیجنس کے شعبہ میں حکومت کے ساتھ بڑے پیمانہ پر اشتراک کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ میں اہم شعبہ جات اور نظم و نسق میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعہ کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا ۔ یادداشت مفاہمت کے تحت گوگل تلنگانہ حکومت کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے زرعی حل تلاش کرنے کیلئے اقدامات کرے گا جس کے تحت کسانوں کو بہتر فصلوں میں مدد ملے گی۔ تعلیم کے شعبہ میں ڈیجیٹل لرننگ کو متعارف کیا جائے گا۔ کسانوں کو بہتر فصلوں کے سلسلہ میں اوپن اگریکلچر نیٹ ورک کے ذریعہ رہنمائی کی جائے گی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے یادداشت مفاہمت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ تلنگانہ کو آرٹیفیشل انٹلیجنس ہب میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بہتر نظم و نسق اور معاشی ترقی کے علاوہ عوامی خدمات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ گوگل انڈیا کے کنٹری مینجر پریتی لبانا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اور گوگل کے درمیان اشتراک ہندوستان کے ڈیجیٹل فیوچر منصوبہ کا حصہ ہے۔ تلنگانہ حکومت نے مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں جو ویژن طئے کیا ہے ، اس کی تکمیل میں مدد دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ، تعلیم اور دیگر شعبہ جات میں آرٹیفیشل انٹلیجنس کے استعمال سے کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ یادداشت مفاہمت پر تلنگانہ سے پرنسپل سکریٹری آئی ٹی جیشن رنجن نے دستخط کئے۔1