وباء کی دوسری لہر میں مثبت صورتحال ریکارڈ ، آکسیجن سیلنڈرس کی مانگ میں اضافہ
حیدرآباد۔ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ ساتھ دونوں شہروں میں آکسیجن کی مانگ میں اضافہ ہونے لگا ہے اور جن مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت محسوس ہورہی ہے وہ اضافی سلینڈرس حاصل کرتے ہوئے اپنے گھر میں رکھنے لگے ہیں جبکہ آکسیجن کی ضرورت ہر مریض کو محسوس نہیں ہورہی ہے بلکہ صرف 25 فیصد مریضوں کو آکسیجن سلینڈرس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے لیکن کہا جار ہاہے کہ شہر میں سال گذشتہ کی بہ نسبت جاریہ لہر کے دوران آکسیجن سلینڈرس کی ضرورت محسوس کی جائے گی کیونکہ سال گذشتہ گھریلو قرنطینہ سے زیادہ شہری دواخانوں کا رخ کر رہے تھے لیکن دوسری لہر کے دوران شہر کے مختلف ڈاکٹرس سے مشاورت اور ان کی جانب سے تجویز کردہ ادویات کا استعمال کرتے ہوئے کورونا وائرس کے مریض گھریلو قرنطینہ میں اپنے علاج کو یقینی بنا رہے ہیں۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ جو لوگ کورونا وائرس کا شکار ہورہے ہیں وہ اب خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ ہمت سے کام لیتے ہوئے گھریلو قرنطینہ اختیار کرنے لگے ہیں اور گھریلو قرنطینہ کے دوران ان کا علاج ممکن ہورہا ہے لیکن گھریلو قرنطینہ کے دوران ضرورت پڑنے پر آکسیجن کا بھی استعمال کیا جا رہاہے اور مریض کو درکار آکسیجن کی فراہمی یقینی بنائے جانے کی صورت میں کسی بھی طرح کی ناگہانی صورتحال کا سامنا نہیں ہورہا ہے جو کہ دوسری لہر کے دوران مثبت صورتحال ریکارڈ کی جار ہی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں آکسیجن ڈیلرس سے تفصیلات کے حصول پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کئی شہریوں کی جانب سے آکسیجن سیلنڈرس کے حصول اور گھر میں بطور احتیاط رکھے جانے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اسی لئے اب ڈیلرس کی جانب سے صرف ان لوگوں کوآکسیجن سیلنڈرس فراہم کئے جا رہے ہیں جن کے گھر میں مریض موجود ہیں اور ڈاکٹرس کی جانب سے انہیں آکسیجن تجویز کیا گیا ہے۔ جناب حبیب عیدروس عبدالقادر علوی الحامد نے بتایا کہ ان کی ایجنسی نائس گیاس انڈسٹری کی جانب سے صرف انہی لوگوں کو آکسیجن سربراہ کیا جا رہا ہے جنہیں ڈاکٹرس کی جانب سے آکسیجن تجویز کیا جا رہاہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو لوگ احتیاط کے طور پر سیلنڈر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں سیلنڈر کی فراہمی سے گریز کرنے کی صورت میں ضرورت مند مریضوں کو بروقت سیلنڈر کی فراہمی عمل میں لائی جاسکتی ہے اسی لئے ڈاکٹرس کی تجویز کردہ سلپ اور اس کے اعتبار سے آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔